صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 569 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 569

صحیح البخاری جلد ۱۲ وو ۵۶۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن نیز آپ نے فرمایا: خواب میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کس وقت اور کن حالات میں بیت اللہ کا طواف کیا جائے گا۔چونکہ یہ مہم جُنُودُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ملائکۃ اللہ کے ذریعہ سے اپنے انجام کو پہنچنے والی تھی اس لئے اس کی تفصیلات پر وہ غیب میں رکھی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم اُس صراط مستقیم پر چلائے گئے جو مشیت اللہ کے مطابق تھی۔بعد کے واقعات سے مشیت اللہ آشکار ہوگئی اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ رویاء، کشف اور وحی الہی سے متعلق مشاہدات جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوں ضروری نہیں کہ وہ انبیاء علیہم السلام پر اپنی تمام جزئیات کے ساتھ قبل از ظهور منکشف ہو جائیں۔اس بارے میں اُن کا علم بعض وقت اجمالی ہوتا ہے۔سورۃ ا رة الفتح سفر حدیبیہ سے واپسی کے وقت نازل ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا اور انہیں اس سے آگاہ فرمایا۔کیونکہ وہ شرائط صلح سے سخت پریشان خاطر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے اور زیادہ متفکر اور غمگین۔( صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة الحديبية، جلد ۸ صفحه ۳۶۶،۳۶۵) فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ فَلَمْ يُحِبُهُ: حضرت عمر نے آپ سے کسی بات کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ 66 صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب نہیں دیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: جب آپ نے یہ آیات صحابہ کو سنائیں تو چونکہ بعض صحابہ کے دل میں ابھی تک صلح حدیبیہ کی تلخی باقی تھی وہ حیران ہوئے کہ ہم تو بظا ہر ناکام ہو کر واپس جارہے ہیں اور خدا ہمیں فتح کی مبارک باد دے رہا ہے۔حتی کہ بعض صحابہ نے اس قسم کے الفاظ بھی کہے کہ کیا یہ فتح ہے کہ ہم طواف بیت اللہ سے محروم ہو کر واپس جارہے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے بہت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ایک مختصر سی تقریر میں جوش کے ساتھ فرمایا۔حدیبیہ یہ کی صلح ہمارے لیے ایک بڑی بھاری فتح ہے۔قریش جو ہمارے خلاف میدانِ جنگ میں اترے ہوئے تھے انہوں نے خود جنگ کو ترک کر کے امن کا معاہدہ کر لیا ہے اور آئندہ سال ہمارے لیے مکہ کے دروازے کھول دینے کا وعدہ کیا ہے۔اور ہم امن وسلامتی کے ساتھ اہل مکہ کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ ہو کر آئندہ فتوحات کی خوشبو پاتے ہوئے واپس جارہے ہیں۔پس یقیناً یہ ایک عظیم الشان فتح ہے۔کیا تم لوگ ان نظاروں کو بھول گئے کہ یہی قریش اُحد اور احزاب کی جنگوں میں کس طرح تمہارے خلاف چڑھائیاں کر کر کے آئے تھے۔اور یہ زمین باوجود فراخی کے تم