صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 568 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 568

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۶۸ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن قَالَ فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ہو۔مجھے کچھ دیر نہ گزری تھی کہ میں نے پکارنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَقَدْ والے کو سنا جو ( مجھے ) پکار رہا تھا۔حضرت عمرؓ کہتے أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُوْرَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ تھے: میں نے کہا: مجھے یقین خدشہ ہے کہ میرے إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ثُمَّ متعلق ضرور قرآن نازل ہوا ہو گا۔کہتے تھے : میں قَرَأَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًاه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو (الفتح: ٢) السلام علیکم کہا۔آپ نے فرمایا: آج رات مجھ پر ایک ایسی سورۃ نازل کی گئی ہے جو یقیناً مجھے ان اطرافه ٤١٧٧ ٠ ٤٨٣٣ - تمام چیزوں سے پیاری ہے جن پر سورج چڑھتا ہے۔پھر آپ نے (سورۃ الفتح) پڑھی: إِنَّا فَتَحْنَا لك فتحا مبینا یعنی ہم نے تم کو ایک کھلی کھلی فتح بخشی ہے۔تشریح۔فَضْلُ سُورة الفتح: سورة افتح کی فضیلت۔یہ حدیبیہ سے واپسی کا واقعہ ہے جو حدیث نمبر ۵۰۱۲) میں بیان کیا گیا ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ” یہ سفر ایک خواب کی بناء پر صرف عمرہ کی غرض سے ذوالقعدہ (۶ھ) کے شروع میں اختیار کیا گیا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ صحابہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔اس خواب کا ذکر سورۃ الفتح میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّويَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَمِنِينَ مُحتقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قريبا (الفتح: ۲۸) ود و ( صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة الحديبية، جلد ۸ صفحه ۳۵۸،۳۵۷) (الدر المنثور، سورة الفتح آیت ۲۷: لقد صدق الله ، جزء ۱۳ صفحه ۵۱ تا ۵۱۳) ( فتح الباری جزوے صفحہ ۵۴۸) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : يقينا اللہ نے اپنے رسول کو (اس کی) رویا حق کے ساتھ پوری کر دکھائی کہ اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور بالضرور مسجد حرام میں امن کی حالت میں داخل ہو گے، اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بال کتر واتے ہوئے ، ایسی حالت میں کہ تم خوف نہیں کرو گے۔پس وہ اس کا علم رکھتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے۔پس اس نے اس کے علاوہ قریب ہی ایک اور فتح مقدر کر دی ہے۔“