صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 565
صحیح البخاری جلد ۱۲ AYA ۶۶ - کتاب فضائل القرآن بھی دریافت کرتے تھے۔اور سورۃ بقرہ میں باقی سب سورتوں سے زیادہ مسائل بیان ہوئے ہیں یہاں تک کہ حضرت ابن العربی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استادوں میں سے ایک اُستاد سے سُنا ہے کہ سورۃ بقرہ میں ایک ہزار حکم ہے اور ایک ہزار منا ہی ہے اور ایک ہزار فیصلے اور ایک ہزار خبریں ہیں۔یہ صوفیانہ رنگ کی بات ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ سورۃ بقرہ میں مضامین کی نوعیت اور احکام اسلام کی وسعت اس قدر ہے کہ دوسری سورتوں میں سے کسی میں بھی اس قدر نہیں ہے۔یہ جو آپ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے اس میں شیطان نہیں آتا اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس سورۃ میں شیطانی وساوس کا ایسا رڈ موجود ہے کہ اس پر غور کرنے کے بعد شیطان گھر میں نہیں آسکتا اور یہ جو فرمایا کہ صبح تک شیطان نہیں آتا اس سے اس طرف اشارہ کیا کہ تعلیم خواہ کیسی اعلیٰ ہو جب تک بار با دہرائی نہ جائے دل پر پورا اثر نہیں ہوتا اور نیک اثر خواہ کس قدر اعلیٰ ہو کچھ عرصہ کے بعد اگر اس کی تجدید نہ کی جائے زائل ہو جاتا ہے۔اور یہ جو فرمایا کہ جو شخص سورہ بقرہ کی پہلی چار آیتیں اور آیتہ الکرسی اور اس کے ساتھ کی دو آیتیں اور سورہ بقرہ کی آخری تین آیتیں پڑھے اس کے گھر سے بھی شیطان بھاگ جاتا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے کہ ان آیتوں میں اسلام کا خلاصہ ہے۔سورہ بقرہ کی پہلی آیتوں میں پاک عملی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔آیۃ الکرسی میں صفات باری کا نہایت لطیف نقشہ ہے اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتوں میں دل کو پاک کر دینے والی دعائیں ہیں اور یہ تین چیزیں یعنی (۱) الہی کلام کی تتبع میں نیک اعمال کا بجالانا (۲) صفات الہیہ پر غور کرنا (۳) اور ان دونوں باتوں کے ساتھ دعا میں مشغول رہنا اور اپنے آپ کو آستانہ الہی پر گرادینا جب اکٹھی ہو جائیں تو انسان کا دل پاک ہو جاتا ہے اور شیطان بھاگ جاتا ہے۔( تفسیر کبیر، تفسیر سورة البقرة، جلد اول صفحه ۵۱،۵۰) بَابِ ۱۱: فَضْلُ الْكَهْفِ سورۃ کہف کی فضیلت ٥٠١١: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ۵۰۱۱: عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق نے ہم سے بیان کیا۔(الجامع لأحكام القرآن، تفسير سورة البقرة، الكلام في نزولها وفضلها وما جاء فيها، جزء اول صفحه ۱۵۲)