صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 566
صحیح البخاری جلد ۱۲ AYY ۶۶ - کتاب فضائل القرآن الْبَرَاءِ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُوْرَةَ انہوں نے حضرت براء بن عازب) سے روایت الْكَهْفِ وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوْطٌ کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص سورۂ کہف پڑھ رہا بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تھا۔اور اس کے ایک طرف ایک گھوڑا دو رسیوں تَدْنُو وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ فَلَمَّا سے بندھا ہوا تھا اتنے میں ایک بدلی اس پر چھا گئی أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور وہ نزدیک سے نزدیک آتی جاتی تھی اور اس کا وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ تِلْكَ گھوڑا بدکنے لگا۔جب صبح ہوئی وہ نبی صلی اللہ السَّكِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ۔علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے یہ ذکر کیا۔آپ نے فرمایا۔یہ وہ سکینت ہے جو قرآن کی تلاوت اطرافه: ٣٦١٤، ٤٨٣٩ - کی وجہ سے آہستہ آہستہ نازل ہو رہی تھی۔تش۔فَضْلُ الكَهْفِ : سورۃ کہف کی فضیلت۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو بعض کے نزدیک یہ سورۃ ان سورتوں میں سے ہے جو یکدم نازل ہوئی ہیں۔دیلمی نے انس سے یہی روایت کی ہے کہ یہ سورۃ یکدم نازل ہوئی تھی اور ستر ہزار فرشتہ ساتھ تھا اور اس کی خاص طور پر حفاظت کی گئی تھی۔۔۔۔۔چونکہ دنیا کے تمام اسباب ملائکہ کے سپرد ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ان کے لئے بطور مدبر ہیں اس لئے جب کوئی ایسی پیشگوئی کی جاتی ہے۔اسی قدر ملائکہ کو جن کے زیر تدبیر سامانوں سے اس کے پورا ہونے کا تعلق ہو حکم دیا جاتا ہے کہ تم اس سورۃ کے مضمون کی حفاظت کرو یعنی ان تدابیر میں لگ جاؤ جو اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے ضروری ہیں۔پس حفاظت آسمان سے زمین کے نزول تک نہیں ہوتی بلکہ حفاظت کا اصل کام نزول کے بعد شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ اس سورۃ میں بیان کردہ پیشگوئیاں پوری نہ ہو جائیں۔۔۔غرض اس سورۃ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اتارنے کا یہ مطلب ہے کہ چونکہ اس میں یاجوج ماجوج جیسی طاقتور قوموں اور آخری مسیحی فتنہ کے استیصال کی خبر دی گئی ہے اس لئے ہزاروں فرشتوں کو اس پیشگوئی کے پورا کرنے کیلئے نزول قرآن کے زمانہ سے لگا دیا گیا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة الكهف، جلد چہارم صفحه ۴۰۴،۴۰۳)