صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 564
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۶۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن بھجوائی جو آدمی اس کے لئے چنے گئے۔آپ نے اُن سے قرآن کریم سنا۔آخر آپ ایک شخص کی طرف متوجہ ہوئے جو ان سب سے چھوٹی عمر کا تھا اور اس سے پوچھا کہ تم کو کتنا حصہ قرآن کریم کا یاد ہے اس نے کہا: فلاں فلاں سورۃ کے علاوہ سورۃ بقرہ بھی یاد ہے آپ نے فرمایا کہ کیا سورۃ البقرہ تم کو یاد ہے ؟ اس نے کہا: ہاں یارسول اللہ۔آپؐ نے فرمایا: بس تو تم اس لشکر کے سردار مقرر کئے جاتے ہو۔اس پر اس قوم کے سرداروں میں سے ایک شخص نے کہا کہ خدا کی قسم میں سورۃ بقرہ کے یاد کرنے سے صرف اس لئے رکا رہا ہوں کہ کہیں مجھے بعد میں بھول نہ جائے۔یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن سیکھو اور اسے پڑھتے رہا کرو کیونکہ جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور پھر اسے پڑھتارہتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو نکل نکل کر سارے مکان میں پھیل رہی ہو۔اور جو شخ قرآن سیکھ کر سو جائے اس حالت میں کہ قرآن اس کے اندر ہو اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جس میں مشک بند پڑا ہو۔ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جس گھر میں سورۃ بقرہ کی تلاوت کی جائے اس سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔(ابن کثیر ) اسی طرح دارمی نے اپنی مسند میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت درج کی ہے کہ جو شخص سورۃ بقرہ کی دس آیتیں رات کے وقت پڑھے صبح تک شیطان اس کے گھر میں داخل نہیں ہوتا۔یعنی سورۃ بقرہ کے ابتداء کی چار آیتیں، آیتہ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور سورہ بقرہ سے آخر کی تین آیتیں جو لِلَّهِ ما في السمواتِ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سورۃ بقرہ کے یاد کرنے پر ایک نوجوان کو لشکر کا امیر بنا دیا۔اس میں کئی حکمتیں تھیں۔اول آپ نے اس طرح دوسرے لوگوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ قرآن یاد کرنے اور یاد رکھنے کی خواہش پیدا کی۔اسلامی لشکروں کی سرداری مالی لحاظ سے منفعت بخش نہ تھی مگر اپنے روحانی باپ کی خوشنودی کی جو قدر صحابہ کے دل میں تھی اسے صرف محبت کی چاشنی سے واقف لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ اس زمانہ میں جو سر دار لشکر ہوتا تھا وہی عام طور پر امام الصلوۃ بھی ہوتا تھا اور اسی سے لوگ مسائل وغیرہ (ترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورة البقرة۔۔۔) (سنن ابن ماجه، کتاب السنة، باب فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنِ وَعَلَّمَهُ) (سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن باب فضل أول سورة البقرة)