صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 550
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن علیہ السلام کا رمضان میں آپ کے ساتھ مل کر قرآن کریم کا دور کرنا نزول نہیں کہلا سکتا کیونکہ فرشته اتر تا ہی اسی وقت ہے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہو اور اسلامی زبان میں اس کے لیے نزول کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان اسلامی نام ہے اس مہینے کا پہلا نام زمانہ جاہلیت میں ناتق ہوا کرتا تھا۔" ( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ۔۔۔جلد دوم صفحه ۳۹۵) بَاب : الْقُرَّاءُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے قرآن کے قاری ٤٩٩٩ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۴۹۹۹ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ إِبْرَاهِيمَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن مرہ) سے، عَنْ مَّسْرُوْقٍ ذَكَرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو عمرو نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے مسروق عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَ لَا أَزَالُ سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو (بن أُحِبُّهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عاص) نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا ذکر کیا اور کہا: میں ان سے ہمیشہ محبت رکھتا ہوں۔وَسَلَّمَ يَقُوْلُ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔فرماتے مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ تھے: چار آدمیوں سے قرآن سیکھو : عبد اللہ بن مسعود ، سالم (مولی ابو حذیفہ)، معاذ بن جبل) وَمُعَاذٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ۔اطرافه ،٣٧٥٨، ٣٧٦٠، ٣٨٠٦، ٣٨٠٨- اور أبي بن كعب ٥٠٠٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۵۰۰۰: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے شَقِيْقُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ خَطَبَنَا عَبْدُ اللهِ بیان کیا کہ شقیق بن سلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں بْنُ مَسْعُوْدٍ فَقَالَ وَاللهِ لَقَدْ أَخَذْتُ نے کہا: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہم سے مخاطب مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ