صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 549
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن ٤٩٩٨ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ :۴۹۹۸ خالد بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ ابو بكر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ ابو حسین سے، ابوحصین نے ذکوان (ابو صالح) يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے، ذکوان نے حضرت ابوہریرہ سے روایت وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَعَرَضَ کی۔انہوں نے کہا: (حضرت جبریل ) نبی صلی اللہ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک دفعہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔جس سال آپ نے وفات فِيْهِ وَكَانَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ عَامِ پائی آپ کے ساتھ انہوں نے دو دفعہ دور کیا اور عَشْرًا فَاعْتَكَفَ عِشْرِيْنَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيْهِ۔طرفه ٢٠٤٤ - ہر سال آپ دس دن اعتکاف بیٹھا کرتے تھے مگر جس سال آپ نے وفات پائی اس سال آپ میں (۲۰) دن اعتکاف بیٹھے۔تشريح : كَانَ جِبْرِيلُ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جبريل نبی صلی الله علیہ وسلم سے قرآن کا دور کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابتدائے نزول قرآن بھی رمضان کے مہینہ میں ہوا اور پھر ہر رمضان میں جتنا قرآن اس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا تھا۔جبریل دوبارہ نازل ہو کر اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر دہراتے تھے۔اس روایت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ سارا قرآن کریم ہی رمضان میں نازل ہوا بلکہ کئی حصے متعدد بار نازل ہوئے۔یہاں تک کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد اگر ۲۳ رمضان آئے تو بعض آیات ایسی تھیں جو ۲۳ بار نازل ہوئیں بعض ۲۲ بار نازل ہوئیں۔بعض ۲۱ بار اور بعض ۲۰ بار۔اسی طرح جو آیات آخری سال نازل ہو ئیں وہ بھی دو دفعہ دہرائی گئیں کیونکہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آپ کی حیات طیبہ کے آخری سال میں جبریل علیہ السلام نے دو دفعہ قرآن کریم آپ کے ساتھ دہرایا اور یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ ملائکہ جو بھی کام کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جبریل