صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 551
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵۱ -۶۶- کتاب فضائل القرآن وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِيْنَ سُوْرَةً وَاللهِ لَقَدْ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ستر سے کچھ اوپر عَلِمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سورتیں سیکھی ہیں۔اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ أَنِّي مِنْ أَعْلَمِهِمْ بِكِتَابِ اللهِ کے صحابہ کو بخوبی علم ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ان میں سے کتاب اللہ کو سب سے وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِمْ۔قَالَ شَقِيْقٌ زیادہ جانتے ہیں اور میں ان سے افضل نہیں فَجَلَسْتُ فِي الْحِلَقِ أَسْمَعُ مَا ہوں۔شقیق نے کہا: میں مختلف حلقوں میں بیٹھا يَقُوْلُوْنَ فَمَا سَمِعْتُ رَادًّا يَقُوْلُ غَيْرَ جو لوگ باتیں کرتے تھے، سنتا تھا۔میں نے کسی معترض کو نہیں سنا کہ وہ حضرت ابن مسعودؓ کی ذلك۔اس بات کے خلاف کہتا ہو۔٥٠٠١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۵۰۰۱: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ كُنَّا بِحِمْصَ اعمش نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے علقمہ فَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ سُوْرَةَ يُوْسُفَ فَقَالَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم حمص میں رَجُلٌ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ قَرَأْتُ تھے وہاں حضرت ابن مسعودؓ نے سورۃ یوسف پڑھی۔ایک شخص نے کہا: یہ سورۃ اس طرح عَلَى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نازل نہیں کی گئی۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحْسَنْتَ وَوَجَدَ مِنْهُ رِيْحَ کہا: میں نے یہ سورۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْخَمْرِ فَقَالَ أَتَجْمَعُ أَنْ تُكَذِّبَ کے سامنے پڑھی تھی اور آپ نے فرمایا: خوب بِكِتَابِ اللهِ وَتَشْرَبَ الْخَمْرَ فَضَرَبَهُ پڑھی اور حضرت ابن مسعودؓ نے اس (شخص) سے شراب کی بو محسوس کی تو کہا: تم دو دو باتیں کرتے ہو۔کتاب اللہ کو جھٹلاتے ہو اور شراب الْحَد۔پیتے ہو۔اس لئے انہوں نے اس کو حد لگائی۔٥٠٠٢ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۵۰۰۲ عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔انہوں نے