صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 35
۳۵ صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم عسق دعوت الی اللہ کا پیغام دیا اور اس دعوت حق میں جو اعلیٰ درجہ کا اسوہ پیش کیا ہے، اس نے نفوس کی بالکل کایا پلٹ دی۔اس خارق عادت قلب ماہیت کا نمونہ متعلقہ روایت میں پیش کیا گیا ہے۔جس سے آیت قُلْ لَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى (الشوری:۲۴) کے مذکورہ بالا مفہوم کی تصدیق از خود ہو جاتی ہے۔تعجب ہے کہ سورۃ ہو د وغیرہ میں انبیاء حضرت نوح وغیرہ علیہم السلام کے لئے بار بار یہ ذکر ہو کہ ان میں سے ہر نبی نے اپنی قوم سے بر ملا فرمایا: يُقَومِ لَا أَسْلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِى إِلا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُونَ (هود: ۵۲) اے میری قوم! میں اس (کام) کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔میرا اجر اس ہستی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ سمجھا جائے کہ آپ نے اپنی قوم سے اپنی خدمت رسالت کا نعوذ باللہ یہ معاوضہ طلب کیا ہو کہ وہ آپ کے عزیز و اقرباء سے محبت رکھیں، یہ خیال نہ صرف سیاق کلام اور قرآن مجید کی دوسری آیات ہی کے خلاف ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ عالی تاب کے منافی اور فی ذاتہ بہت بھونڈا خیال ہے کیونکہ انبیاء اور ان کے متبعین وہ گروہ ہے جن کے اجر کی نسبت سورہ ہود ہی میں صراحت ہے کہ انہیں عَطَاء غَيْرَ مَجْنُون (هود: ۱۰۹) نہ ختم ہونے والا انعام دیا جاتا ہے۔لوگ ان کی روح اخلاص اور انتہائی قربانی کا بدلہ قطعاًنہ دے سکتے ہیں اور نہ انبیاء ان سے کسی قسم کے بدلے کی اُمید رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا تَسْلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذكر لِلْعَلَمِينَ (یوسف: ۱۰۵) اور تو اس ( تبلیغ و تعلیم ) کے متعلق ان سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔یہ تو تمام جہانوں (اور سب لوگوں) کے لئے سراسر شرف (کاموجب) ہے۔باوجود اس مطلق نفی کے شیعہ صاحبان معنونہ آیت سے یہ مفہوم سمجھتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ اپنی قوم سے خواہش کی کہ آپ کے رشتہ داروں سے محبت کی جائے۔رشتہ داروں کی محبت کا کیا سوال ! آپ تو سارے جہان کو باہم شیر و شکر دیکھنا چاہتے تھے۔اخوت اسلامی کی بنیاد ہی اس محبت الہی و محبت بنی نوع انسان پر ہے جس میں اپنے اور غیر ، سیاہ و سفید اور مشرقی و مغربی کا سوال ہی اُٹھ جاتا ہے۔سب رشتہ کو حدت میں یکساں پروئے جاتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے المودة في القرنی کے معانی نہایت بسط سے بیان فرمائے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا اعلان فرمایا لَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا کہ میں اس تبلیغ پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ہاں مَوَدَّةَ في القُر بی چاہتا ہوں۔لوگوں نے اس کے معنے کیے ہیں: حضرت امام حسین اور سیدۃ النساء سے محبت کرو۔یہ بات تو بہت اچھی ہے۔مگر یہ سورۃ مکی ہے اور اس وقت امام حسین پیدا نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابنِ عباس نے اس کے خوب معنے کیے ہیں کہ تمام عرب آپس میں