صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 34
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم عسق صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنُ حضرت ابن عباس نے کہا: تم نے جلدی کی۔مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ قریش کا کوئی ایسا قبیلہ نہ تھا جس میں نبی صلی اللہ فَقَالَ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ علیہ وسلم کی رشتہ داری نہ ہو (تو اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم میرے اور مِنَ الْقَرَابَةِ۔طرفه: ٣٤٩٧۔تمہارے درمیان جو قرابت ہے اسی کا لحاظ رکھو۔تشريح : إلا المودة في القربي : روایت زیر باب میں مذکور ہے کہ سعید بن جبیر نے القربی سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل مراد لی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس غلطی پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قریش کا کوئی بھی گھرانہ ایسا نہیں ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری نہ ہو۔اس لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء کو محدود کرنا درست نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس سورت کی آیت نمبر ۲۴ کا شیعہ مفسرین سیاق وسباق سے ہٹ کر ایک ظالمانہ ترجمہ کرتے ہیں۔ان کے نزدیک گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ لوگو! میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا لیکن میرے عزیز رشتہ داروں کو اس کے بدلہ میں اجر دو۔اس آیت کا ہر گز یہ مطلب نہیں۔کیونکہ اپنے عزیزوں کے لئے اجر طلب کرنا دراصل اپنے لئے ہی اجر طلب کرنا ہوتا ہے۔اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ میں تو تم سے اپنے لئے اور اپنے عزیزوں کے لئے بھی کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ میرے عزیزوں اور آگے اُن کی نسل کو کبھی صدقہ نہ دیا جائے لیکن تم اپنے اقرباء کو نظر انداز نہ کرو۔ان کی ضروریات پر خرچ کرنا تم پر فرض ہے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الشوریٰ، صفحہ ۸۶۰) آیت کے معنی یہ ہیں کہ میں تم سے ایک دوسرے کے لئے ویسی ہی محبت چاہتا ہوں جیسی قریب ترین رشتہ دار اپنے قریب ترین رشتہ دار سے کرتا ہے۔ایسی محبت جو سراسر خالص ہو اور طبعی جذبے سے صادر ہو۔چنانچہ صحابہ کرام کے تزکیہ نفس کی شان اور باہمی محبت و اخوت کا رابطہ ایک ایسا نمونہ ہے جو عدیم النظیر ہے اور اپنے مرشد و مزگی کی کامرانی پر ایک بین شہادت ہے۔آپ نے جس غایت درجہ بے نفسی سے نہ صرف اپنی قوم کو بلکہ سارے جہان کو