صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 546 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 546

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۶ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن ہے۔66 اور اس کی تحقیق کا میدان کبھی ختم نہیں ہو گا اور قرآن کی یہ حیثیت اور اس کے نزول کی یہ غرض یقینا فوت ہو جاتی اگر اس کی ترتیب کو عام کتب کی طرح بابوں اور فصلوں وغیرہ میں مضمون وار تقسیم کر کے ایک ٹھوس صورت میں جکڑ دیا جاتا۔پس جہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن ایک نہایت مرتب اور منظم کتاب ہے اور یہ بالکل غلط ہے کہ اس میں کوئی ترتیب نہیں ہے وہاں یہ بات بھی کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اس کی ترتیب عام کتب کی طرح نہیں ہے بلکہ اس جسمانی عالم کے اصول پر ہے جس میں معافی کی بے شمار گہرائیاں مخفی ہیں اور ان گہرائیوں میں ربط و اتحاد کی لا تعداد زنجیریں ایک جال کے طور پر پھیلی ہوئی ہیں جن سے ہر شخص اور ہر زمانہ اپنی کوشش اور اپنی استعداد اور اپنی ضرورت اور اپنے حالات کے مطابق فائدہ اٹھاتا اور اٹھا سکتا۔(سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے، صفحہ ۶۰۰ تا ۶۰۵) اس بات کے مزید ثبوت کے طور پر کہ قرآنی ترتیب اللہ تعالیٰ کی وحی سے دی گئی ہے درج ذیل حوالہ جات میں دیکھی جاسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ یا نا بنت قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُونَ لِقَالَونَا اثْتِ بِقَرانِ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ إِلَى أَنْ أَبَدِ لَهُ مِنْ تِلْقَارِئ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى - (یونس:۱۲) اور جب انہیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ (اے محمد !) تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آ۔یا اس میں (ہی کچھ ) تغیر و تبدل) کر دے۔تو (انہیں) کہہ (کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے (کوئی) تغیر و تبدل) کر دوں۔میں (تو) جو کچھ ) مجھ پر وحی سے حکم نازل) کیا جاتا ہے ، اسی کی پیروی کرتاہوں۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔مطلب یہ ہے کہ میں قرآن مجید کے متعلق تمام باتیں وحی الہی سے کرتا ہوں اور اس میں خود کوئی دخل نہیں دیتا۔لہذا میں کوئی تبدیلی یا تغیر نہیں کر سکتا۔اس آیت سے ان لوگوں کا رد بھی ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ہر سورہ سے پہلے لکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہے نہ کہ وحی سے۔یا ترتیب قرآن یا سورتوں کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ یونس زیر آیت و اذا تتلى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا، جلد نمبر ۳ صفحه (۴۵) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے دیباچہ تفسیر القرآن زیر عنوان ترتیب شور و آیات)، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۳۸ تا ۴۴۰