صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 547 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 547

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۷ ۶۶- کتاب فضائل القرآن اس امر پر ایک قطعی شہادت حضرت عثمان بن العاص کی ہے۔ وہ بیان فرماتے ہیں: كُنتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ ثُمَّ صَوَّبَهُ۔۔ فَقَالَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْعَ هَذِهِ الآيَة بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَانِی ذِي الْقُرْنی کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ آپؐ نے اپنی نظر او پر اٹھائی۔ پھر اپنی نظر کو نیچے جھکا لیا اور فرمایا کہ ابھی جبریل میرے پاس آئے تھے اور مجھے کہا ہے کہ میں اس آیت ( إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۔۔۔ ) کو اس سورۃ میں اس جگہ رکھوں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ وَمَعَ ذَلِكَ لَا شَكٍّ أَنَّ الْقُرْآنَ وَحَى مَثْلُهُ، وَكُلُّهُ مُتَواثُرُ قَطْعِ، حَتَّى التَّقَاطَ وَالْحُرُوفَ، وَأَنْزَلَهُ اللهُ بِأَهْتِمَامٍ شَدِيدٍ كَامِلٍ بِحِرَاسَةِ الْمَلَائِكَةِ ثُمَّ مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَقِيقَةً مِنَ الْإِهْتَامَاتِ فِي أَمْرِهِ، وَدَاوَمَ عَلَى أَنْ يُكْتَبَ أَمَامَ عَيْنِهِ آيَةً آيَةً كَمَا كَانَ يَنْزِلُ حَتَّى جَمَعَ كُلَّهُ، وَرَتَّبَ الْآيَاتِ وَجَمَعَهَا بِنَفْسِهِ النَّفِيسَةِ ، وَكَانَ يُدَاوِمُ عَلَى قِرَاء تِهِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا ، حَتَّى ارْتَحَلَ مِنْ دَارِ الدُّنْيَا وَلَحِقَ بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى، وَلَا قَى مَحْبُوبَهُ رَبَّ الْعَالَمِينَ (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلدی، صفحہ ۲۱۶) ترجمه : مزید بر آن قرآن بلا شبہ وحی متلو ہے اور پورے کا پورا یہاں تک کہ نقطے اور حروف بھی قطعی متواتر ہیں۔ اور اللہ نے اسے کمال اہتمام کے ساتھ فرشتوں کی حفاظت میں نازل فرمایا ہے۔ پھر اس کے بارے میں تمام قسم کے اہتمام کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ایک آیت جیسے وہ ( قرآن ) نازل ہوتا رہا، لکھنے پر مداومت فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ نے اسے مکمل طور پر جمع فرمایا اور بنفس نفیس آیات کو ترتیب دیا اور اُنہیں جمع کیا اور نماز میں اور نماز سے باہر اس کی تلاوت پر مداومت فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اور اپنے رفیق اعلیٰ اور محبوب رب العالمین سے جاملے۔ (حمامة البشرى اردو ترجمه ، صفحه ۱۰۱، ۱۰۲) ا (مسند أحمد بن حنبل، مسند الشامیین، حديث عثمان بن أبي العاص عن النبي ، جزء ۴ صفحه ۲۱۸)