صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 545 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 545

صحیح البخاری جلد ۱۳ ది ۶۶ - کتاب فضائل القرآن قرآن کی تحقیق سے علماء کبھی سیر نہیں ہوں گے اور نہ اس کے عجائب کبھی ختم ہوں گے۔اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ قرآنی آیات کے صرف ظاہری معانی پر ہی حصر نہیں ہے بلکہ اس کی ہر آیت کے نیچے متعدد بطون ہیں اور ہر بطن آگے متعد د شاخیں رکھتا ہے۔بالفاظ دیگر اسلام قرآن شریف کو ایک روحانی عالم کے طور پر پیش کرتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح یہ دنیا ایک جسمانی عالم ہے۔پس اس کی ترتیب کے اصول کو سمجھنے کے لیے بھی بہترین مثال اس دنیا کی ہو سکتی ہے۔جس طرح اور جس رنگ میں اس دنیا میں ترتیب پائی جاتی ہے کہ ہر چیز باوجود ایک دوسرے سے بظاہر جدا اور لا تعلق نظر آنے کے دراصل اپنی گہرائیوں میں ایک دوسرے سے پیوست اور مربوط ہے اور ایک مخفی زنجیر بلکہ مختلف جہات سے کئی مخفی زنجیریں اس کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیے ہوئے ہیں اسی طرح قرآن کی گہرائیوں میں ربط و اتحاد کی کڑیاں چلتی ہیں اور ٹھیک جس طرح اس جسمانی عالم میں محققین اور سائنس دان اپنی اپنی اہلیت اور اپنی اپنی تحقیق کے مطابق علوم کے جواہر نکالتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن کے روحانی عالم کے سمندر میں غوطہ لگانے والوں کے لیے بھی کسی زمانہ میں روحانی موتیوں کی کمی نہیں رہی اور نہ آئندہ ہو گی۔اور یہ بات قرآن کریم کے سب سے بڑے معجزوں میں سے بڑا معجزہ ہے کہ اس کے الفاظ اور اس کی ترتیب کو ایسے طور پر رکھا گیا ہے کہ وہ با وجود حجم میں ساری آسمانی کتابوں میں سے چھوٹا ہونے کے اپنے اندر روحانی علوم کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ رکھتا ہے جو حسب تحقیق محققین اور حسب ضرورت زمانہ ہمیشہ ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ترتیب کو عام کتب کی طرح معین مضمون کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے بابوں اور فصلوں اور پیروں وغیرہ کی صورت میں نہیں رکھا گیا کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو اس کے معانی کی ساری وسعت کھوئی جاتی اور اس کا مفہوم ایک محدود اور معین صورت اختیار کر کے اپنی ظاہری اور بد یہی صورت میں بالکل مقید ہو جاتا۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن شریف اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے اندر علوم کے بے انتہاء خزانے مخفی ہیں جو ہمیشہ بقدر ضرورت ظاہر ہوتے رہیں گے (سنن الترمذى، أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ القُرْآنِ) (شرح السنة للبغوى، كِتابُ الْعِلْمِ ، بَابُ الْخُصُومَةِ فِي الْقُرْآنِ) (المعجم الكبير للبطراني، باب العین، جزء ۱۰ صفحه (۱۰۵) (مشكاة المصابيح، كتاب العلمِ ، الفضل الثَّانِي)