صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 544
صحيح البخاری جلد ۱۳ ۵۴۴ ۶۶ - كتاب فضائل القرآن حالات پیش آمدہ کے ساتھ ساتھ چلایا گیا تھا تا کہ اس کی تعلیم صحابہ میں جذب ہوتی جاوے لیکن جب سب نزول ہو چکا اور ایک جماعت قرآنی شریعت کی حامل وجود میں آگئی تو پھر اس ترتیب کو قائم رکھنا ضروری نہ تھا بلکہ پھر اس بات کی ضرورت تھی کہ آئندہ کی مستقل ضروریات کے مطابق اسے ترتیب دی جاوے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔اگر اس جگہ کسی کو یہ اعتراض پیدا ہو کہ نزول کی ترتیب بدلنے سے قرآن کی تاریخی حیثیت ضائع ہو گئی ہے تو یہ ایک بودا اور فضول اعتراض ہو گا کیونکہ اول تو جب حدیث و تاریخ میں قرآنی آیات کی نزول کی ترتیب بیشتر طور پر محفوظ ہے اور ذراسی محنت اور توجہ کے ساتھ اس بات کا پتہ لگ سکتا ہے کہ کوئی آیت یا سورۃ کب نازل ہوئی تھی تو اس صورت میں ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قرآن کی تاریخی حیثیت ضائع ہو گئی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ وہ پوری طرح محفوظ ہے اور دوست و دشمن نے اسے تسلیم کیا ہے صرف فرق یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر قرآن کو اس کے نزول کے مطابق ترتیب دیا جاتا تو اس کی تاریخی حیثیت بدیہی اور عیاں ہوتی اور اب وہ محنت اور توجہ کے ساتھ نکالنی پڑتی ہے۔دوسرے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن شریف کی اصل غرض و غایت تاریخ کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اس قانون کا بہترین صورت میں مہیا کرنا ہے جو لوگوں کی تمدنی اور اخلاقی اور روحانی ترقی کے لیے ضروری ہے اور جو بندہ کو خدا تک پہنچا سکتا ہے۔پس اس کی ترتیب میں بھی انہی اصول کا مد نظر رکھا جانا ضروری تھا جو ان اغراض کو بہترین صورت میں پورا کر سکتے تھے اور اگر اس کی ترتیب میں ان اصولوں کو قربان کر کے تاریخی پہلو کو ترجیح دی جاتی تو یہ ایک نہایت غیر حکیمانہ فعل ہو تا۔اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے یہ بتادینا بھی ضروری ہے کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بھی اس رنگ کی ترتیب نہیں ہے جس میں عام کتب کی طرح بابوں اور فصلوں اور پیروں وغیرہ میں مضمون کو تقسیم کیا گیا ہو کیونکہ اس قسم کی ترتیب قرآن کی غرض وغایت کے منافی تھی۔قرآن کا دعوی ہے کہ وہ سب اقوام اور سب زمانوں کے لیے ایک شریعت لایا ہے۔اور اس میں علوم کے خزانے مخفی ہیں جو بقدر ضرورت ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔اور حدیث میں آتا ہے کہ ل (الاعراف (۱۵۹) (الفرقان : ٢ ) (سبا: ٢٩) الحجر : ۲۲ ) (بنی اسرائیل: ۹۰)