صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 543 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 543

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۳ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن مناسب حال قرآنی احکامات کا نزول ہوتا تا کہ وہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو بدلنے اور نئی تعلیم کو اپنے اندر جذب کرنے میں آسانی پاتے اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے بہترین صورت یہ تھی کہ سب سے پہلے اس قسم کی آیات کا نزول ہوتا جن میں صرف عقیدہ کی درستی مد نظر ہے۔اور مشرکانہ خیالات کو مٹا کر توحید کو قائم کیا گیا ہے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اسلامی طریق عبادات اور اسلامی طریق معاملات اور اسلامی طریق تمدن اور اسلامی طریق سیاست کے متعلق اوامر و نواہی نازل ہوتے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔لیکن جب ایک جماعت، اسلامی شریعت کی حامل تیار ہوگئی اور آئندہ پھیلاؤ اور ترقی کیلئے ایک وجود بطور تخم کے یعنی ایک نیو کلیئس (NUCLEUS) تیار ہو گیا تو اب اس تخم یا نیو کلیئس کی آئندہ ترقی کے لیے وہ ابتدائی ترتیب نزول غیر طبعی اور ناموزوں تھی۔اس لیے اسے بدل کر وہ ترتیب دے دی گئی جو اس کے لیے مناسب تھی۔چنانچہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بالکل اس اصول کے ماتحت ہے جو ایک تیار شدہ جماعت کے استحکام، اس کے پھیلاؤ اور ترقی کے لیے موزوں ترین ہے۔دوسرا اصول نزول کی ترتیب کو بدل کر دوسری ترتیب کے اختیار کرنے میں یہ مد نظر تھا کہ نزول کی ترتیب زیادہ تر ان حالات کے مطابق چلتی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پیش آتے تھے۔مثلاً چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں ابھی کفار پر اتمام حجت ہو رہا تھا اور مسلمانوں کو صبر و شکیب کے سانچے میں ڈھال کر نکالنا مقصود تھا۔اس لیے مکی آیات میں جہاد کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ صبر و برداشت کی تعلیم پر زور ہے۔لیکن جب اتمام حجت ہو چکا اور صحابہ بھی صبر و برداشت کے سانچے میں ڈھل چکے اور کفار کے مظالم سے مسلمانوں کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا اور ظالم کی سزا کا وقت آگیا تو اس وقت جہاد کی آیات نازل ہوئیں۔اسی طرح مکہ میں چونکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت بصورت جمعیت نہیں تھی اور کفار کے مظالم نے انہیں بالکل منتشر کر رکھا تھا۔یعنی ان کی کوئی اجتماعی زندگی نہیں تھی اس لیے مکہ میں اسلامی طریق تمدن و معاملات کے متعلق آیات نازل نہیں ہوئیں۔لیکن جب مدینہ میں مسلمانوں کو ایک اجتماعی زندگی نصیب ہوئی تو اس کے مناسب حال آیات کا نزول ہوا اگر اس نزول میں حالات کی مناسبت اور مطابقت کو ملحوظ نہ رکھا جاتا تو یقیناً ابتدائی مسلمانوں کے لیے نئی شریعت کو اپنے اندر جذب کرنا اور اس پر صحیح طور پر عامل ہو نا سخت مشکل ہو جاتا۔لہذا قرآن کے نزول کو حتی الوسع