صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 542
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۲ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن الغرض اس بات میں ہر گز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اوّل قرآن شریف کی موجودہ ترتیب اس کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔دوم نہ ہی یہ ترتیب سورتوں کے طول و قصر کے لحاظ سے ہے بلکہ سوم یہ کوئی اور ہی ترتیب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خدائی ارشاد کے ماتحت مقرر فرمائی تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ترتیب کیا ہے ؟ اس کے جواب میں اس جگہ صرف اس قدر اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن شریف جو خدا کا قول ہے اس میں اسی قسم کا اصول ترتیب مد نظر رکھا گیا ہے جو خدا کے فعل یعنی صحیفہ قدرت میں پایا جاتا ہے یعنی جس طرح اس جسمانی عالم میں دنیا کی مادی زندگی اور ترقی و بہبودی کے سامان و ذرائع مہیا کیے جاکر اس میں ایک ترتیب رکھی گئی ہے اسی طرح کی خدا کے قول یعنی قرآن شریف میں ایک ترتیب ہے جو علم النفس کے ان ابدی اصول کے ماتحت قائم کی گئی ہے جو دنیا کی اخلاقی اور تمدنی اور روحانی زندگی اور اصلاح و ترقی کے لیے بہترین اثر رکھتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ جس طرح بعض لوگوں کو اس عالم جسمانی میں کوئی ترتیب نظر نہیں آتی اسی طرح روحانی بینائی سے محروم لوگوں کو قرآنی ترتیب بھی نظر نہیں آتی۔مگر جو لوگ گہرے مطالعہ کے عادی ہیں اور روحانی کلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اپنے اندر ضروری بینائی اور تقدس و طہارت رکھتے ہیں وہ اس ترتیب کو علی قدر مراتب سمجھتے اور اس کے اثر کو اپنے نفوس میں محسوس کرتے ہیں۔اس جگہ اگر یہ سوال پیدا ہو کہ اگر موجودہ ترتیب ہی اصلاح و تربیت اور روحانی تاثیر کے لحاظ سے بہترین تھی تو پھر اسی کے مطابق قرآن کا نزول کیوں نہ ہوا تا کہ صحابہ کی جماعت بھی جو قرآنی تعلیم کی سب سے پہلے حامل بنتی تھی ان اثرات سے متمتع ہوتی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کے حالات اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کے حالات میں اختلاف ہے۔صحابہ کے لیے وہی ترتیب بہترین تھی جس کے مطابق قرآن شریف نازل ہوا۔مگر جب ایک ابتدائی جماعت قائم ہو گئی تو پھر آئندہ کے لیے مستقل طور پر وہ ترتیب بہترین تھی جو موجودہ قرآن میں پائی جاتی ہے اور یہ اختلاف دو اصول کے ماتحت ہے۔اوّل تو بوجہ اس کے کہ صحابہ کی جماعت وہ پہلی جماعت تھی جو اسلامی شریعت کے مطابق قائم ہوئی اور اس سے پہلے کوئی جماعت اسلامی شریعت کی حامل نہیں تھی اور نہ ہی دنیا میں اسلامی شریعت کا وجو د تھا۔اور قرآن کے ذریعہ سے پہلے طریق و تمدن کو مٹاکر ایک بالکل ہی نئے طریق و تمدن کی بنیاد پڑنی تھی، اس لیے ضروری تھا کہ اس وقت کے لوگوں کے سامنے ان کی ذہنیت اور ماحول کے