صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 541
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۱ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن کو ترک کر کے کوئی اور ترتیب اختیار کی جاتی۔مثلاً ایک ہال میں چند آدمی یکے بعد دیگرے داخل ہوتے ہیں۔اب اگر ہال کا منتظم اُن آدمیوں کے متعلق خاص اہتمام کے ساتھ یہ انتظام کرتا ہے کہ وہ داخل ہونے کی ترتیب سے نہ بیٹھیں بلکہ انہیں کسی اور ترتیب کے ساتھ بٹھاتا ہے تو اُس کا یہی فعل اس بات کی دلیل ہو گا کہ خواہ اس کا اصول ترتیب کسی کو معلوم ہو یا نہ ہو مگر اس کے مد نظر کوئی نہ کوئی اصول ضرور ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ داخلہ کی ترتیب کو تبدیل کیا جاتا۔کیونکہ کوئی ہوش و حواس رکھنے والا انسان یو نہی لغو طور پر بلاوجہ کوئی کام نہیں کرتا۔اس موقع پر اکثریورپین محققین یہ کہا کرتے ہیں کہ ہال کے منتظم نے داخلہ کی ترتیب کو بدل کر سائزنگ کے اصول پر لوگوں کو بٹھا دیا ہے۔یعنی قرآنی سورتوں کو اُن کی لمبائی کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔مگر یہ ایک سراسر بے بنیاد اور غلط خیال ہے۔کیونکہ اول تو ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں کہ جمع و ترتیب کا کام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائی تفہیم کے ماتحت سر انجام دیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان کی طرف اس قسم کا عبث فعل کبھی بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ایسا فعل وہی شخص کر سکتا ہے جو عقل و خرد سے بالکل عاری ہو۔نزول کی ترتیب جس سے کم از کم بعض تاریخی فوائد کے حصول میں آسانی ہو سکتی تھی اسے محض اس وجہ سے ترک کرنا کہ قرآنی سورتیں لمبے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے ترتیب دی جا سکیں جس میں کوئی بھی علمی فائدہ متصور نہیں ہے، ایک ایسا فعل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو در کنار ایک معمولی عقل کا آدمی بھی اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تو اس سے بہت بالا وارفع ہے۔دوسرے سورتوں کا وجو د ہی جس کی وجہ سے یہ خیال پید اہوا ہے کسی ترتیب کا نتیجہ ہے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں قرآن شریف سورتوں کی صورت میں نازل نہیں ہوا بلکہ آیات کی صورت میں بہت آہستہ آہستہ نازل ہوا ہے اور سورتیں آیات کے جمع ہونے سے عالم وجود میں آئی ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات عملاً بھی بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ قرآن میں سورتوں کے لمبا چھوٹا ہونے کی ترتیب مد نظر رکھی گئی ہے اور قرآنی سورتوں کی آیات کی تعداد کا ایک سرسری مطالعہ بھی اس کی تردید کے لیے کافی ہے کیونکہ بیسیوں مثالیں ایسی ہیں کہ بعض لمبی سورتیں ہیں جو پیچھے رکھی گئی ہیں اور بعض چھوٹی سورتیں ہیں جو پہلے آگئی ہیں اور نہ معلوم مغربی محققین اس معاملہ میں اس قدر کوتاہ نظری اور فاش غلطی کے مرتکب کس طرح ہوئے ہیں۔