صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 540 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 540

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۰ - کتاب فضائل القرآن عَلْقَمَةُ وَخَرَجَ عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ عبد اللہ اٹھ کر چلے گئے اور علقمہ بھی ان کے ساتھ فَقَالَ عِشْرُوْنَ سُوْرَةً مِنْ أَوَّل اندر گئے۔پھر علقمہ باہر آگئے۔ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن مسعودؓ کی الْمُفَصَّلِ عَلَى تَأْلِيْفِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ترتیب کے مطابق مفصل کی ابتدائی میں سورتیں آخِرُهُنَّ الْحَوَامِيمُ حم الدُّخَانِ وَ ہیں ان کے نزدیک ) ان میں سے آخری سورتیں) وہ ہیں جو خم سے شروع ہوتی ہیں۔طم، الدخان عم يَتَسَاءَلُونَ۔اطرافه ٧٧٥ ٥٠٤٣ اور عم يَتَسَاءَلُونَ بھی ان میں سے ) ہیں۔ریح : تأليف الْقُرْآنِ: یعنی قرآن کریم کی ترتیب۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: یہ سوال کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب کسی اصول پر قائم ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو کس پر سو جاننا چاہیے کہ جیسا کہ دوست و دشمن میں مسلم ہے اور تاریخ و حدیث اس کے حوالوں سے ؟ بھری پڑی ہیں کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب اس کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے بلکہ وہ ایک جداگانہ ترتیب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خدائی تفہیم کے مطابق مقرر فرمائی تھی۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ عَلَيْنَا جَمعَه ، یعنی قرآن کا جمع کر ناخو د ہمارے ذمہ ہے اور ہم ہی اس کام کو سر انجام دیں گے۔اور ظاہر ہے کہ جمع قرآن کا کام خصوصاً جبکہ اسے نزول کی ترتیب سے ہٹا کر دوسری ترتیب میں جمع کیا گیا ہو، ترتیب کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر ہے۔۔۔حدیث میں تو صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر آیت کے نزول پر اور ہر سورۃ کے مکمل ہونے پر خود ہدایت فرماتے تھے کہ اس آیت یا سورۃ کو فلاں جگہ رکھو۔اندریں حالات خواہ کسی شخص کو موجودہ قرآنی ترتیب سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن میں کوئی نہ کوئی اصول ترتیب ضرور مقصود ہے دراصل غور کیا جاوے تو اصل نزول کی ترتیب کو چھوڑنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ نئی ترتیب میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور مد نظر رکھا گیا ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ نزول کی ترتیب (القيامة: ۱۸) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوة، أبواب تفريع استفْتَاحِ الصَّلَاةِ، بَاب مَنْ جَهَرَ بِهَا )