صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 33
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۳ ۶۵ - کتاب التفسير / حم عسق ٤٢ - سورة حم عسق وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَقِيمًا اور حضرت ابن عباس سے عقیما کے معنی جس (الشورى: ٥١) لَا تَلِدُ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا کی اولاد نہ ہو بیان کئے جاتے ہیں۔ رُوحًا من (الشورى: ٥٣) الْقُرْآنُ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَمْرِنَا سے مراد قرآن ہے۔ اور مجاہد نے کہا: يَذْ رَؤُكُمْ فِيهِ (الشورى: ١٢) نَسْلَ بَعْدَ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ سے مراد یہ ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل پھیلاتا ہے۔ لا حُجَّةَ بَيْنَنَا کے نَسْلِ۔ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا (الشورى: ١٦) لَا معنی ہیں اب ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی خُصُومَةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ مِنْ طَرْفِ خَفِي جھگڑا نہیں۔ مِنْ طَرْفِ خَفی یعنی نیچی نگاہ سے۔ (الشورى: ٤٦) ذَلِيلٍ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ اور حضرت ابن عباس کے سوا اوروں نے کہا: فَيَظْلَلْنَ رَوَاحِدَ عَلَى ظَهْرِهِ (الشورى: (٣٤) فَيَظْلَلْنَ رَوَائِدَ عَلَى ظَهْرِہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ يَتَحَرَّكْنَ وَلَا يَجْرِينَ فِي الْبَحْرِ اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے ہلتی رہیں اور سمندر میں شَرَعُوا (الشورى: ۲۲) ابْتَدَعُوا ۔ نہ چلیں۔ شَرَعُوا یعنی انہوں نے نیادین نکالا۔ باب ۱ : إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى (الشورى : ٢٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) سوائے اس محبت کے جو اپنے قریب ترین رشتہ داروں سے کی جاتی ہے ٤٨١٨ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۸۱۸: محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ کیا۔ انہوں نے عبد الملک بن میسرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے طاؤس سے سنا۔ وہ طَاوُسًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى تھے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول إِلَّا الْمَوَدَّةَ الشورى: ٢٤) فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ في القرنیے کی بابت پوچھا گیا (کہ اس سے کیا قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مراد ہے؟) تو سعید بن جبیر نے کہا: قربی سے فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل ہے۔ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ہاں تم آپس میں اقرباء کی سی محبت پیدا کرو۔“