صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 534
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۳۴ ۶۶ -۶- کتاب فضائل القرآن عَلَى حُرُوفِ لَمْ تُقْرِنِيْهَا فَقَالَ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور میں نے کہا: رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے ان کو سورۃ فرقان ایسی طرزوں پر أَرْسِلْهُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چھوڑ دو۔(پھر آپ نے فرمایا) ہشام پڑھو۔كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے اسی قراءت فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي فَقَالَ سے پڑھا جو میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنی تھی۔رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح یہ كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ نازل کی گئی۔پھر آپ نے (مجھ سے) فرمایا: عمر عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ پڑھو۔تو میں نے وہ قراءت پڑھی جو آپ نے مجھے پڑھائی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مِنْهُ۔اطرافه: ۲۱۹۸، ٥٠٤۱، ١٩٣٦، ٧٥٥٠۔فرمایا: اسی طرح نازل کی گئی۔دیکھو! یہ قرآن سات لہجوں کے مطابق اتارا گیا ہے جو بھی ان میں سے آسان ہو وہ پڑھو۔تشریح: أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ: اس سے مراد قرآن کریم کا سا مختلف لہوں پر پڑھنا ہے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ یا جملہ سات مختلف لہجوں پر پڑھا جاتا تھا بلکہ مراد ر یہ ہے کہ جس کلمہ کو مختلف قراءتوں سے پڑھا گیا، اس کی انتہائی حد سات قراء توں تک ہے۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۳۰) فَكِدتُ أُسَاوِرُهُ في الصَّلاة: باب هذا کی روایت (نمبر ۴۹۹۲) میں حضرت عمر کے حضرت ہشام بن حکیم پر اعتراض کا جو ذکر ہے کہ انہوں نے سورۃ الفرقان کو اور طرح سے پڑھا ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ قرآن کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔اس حقیقت کو صرف عربی دان سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ بات صرف عربی میں ہی پائی جاتی ہے کسی اور زبان