صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 535 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 535

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۳۵ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن میں نہیں پائی جاتی۔عربی زبان میں ماضی اور مضارع کے جو صیغے ہیں اُن کے زیر اور زبر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے۔کسی حرف کے نیچے زیر لگالیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہوتا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔بعض لوگوں کے منہ پر زبر چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے منہ پر زیر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زیر یاز بر سے پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے لیکن اس سے معنوں پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا تھانہ لفظ میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔یہ فرق اور زبانوں میں نہیں پایا جاتا اس لئے دوسری زبانوں کے آدمی جب یہ بات سنتے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید کسی شخص کو کوئی آیت پڑھائی ہوتی تھی اور کسی کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی حالانکہ آیت کا کوئی سوال ہی نہیں نہ لفظ کا کوئی سوال ہے سوال صرف لفظوں کے بعض حروف کی حرکت کا ہے ان حرکات کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے وہ اس حرکت سے پڑھ لیتی ہے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۲۹،۴۲۸) سعبة احرف کی ایک اور تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔عام طور پر لوگوں نے اس حدیث کو پوری طرح نہیں سمجھا۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف زمانوں کے تغیرات کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے کھلتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے لوگوں کو قرآن کریم کی کئی آیات کے وہ معنے نظر نہ آئے جو بعد میں تغیر آنے والے زمانہ کے لوگوں کو نظر آئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے جو نکات اور معارف نکالے وہ قرآن کریم میں نئی آیات داخل کر کے نہیں نکالے آیات وہی تھیں ہاں آپ پر اس زمانہ کے مطابق ان کا بطن ظاہر ہوا۔چونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اور موجودہ زمانہ مذہب کے متعلق امن اور صلح کا زمانہ تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے