صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 531 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 531

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۳۱ ۶۶ - - کتاب فضائل القرآن فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجْهِدُونَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لِي زَيْدًا وَلْيَجِئ فِي سَبِيلِ اللهِ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِاللَّوْح وَالدَّوَاةِ وَالْكَتِفِ أَوِ الْكَتِفِ میرے پاس زیڈ کو بلاؤ اور وہ سختی اور دوات اور وَالدَّوَاةِ ثُمَّ قَالَ اكْتُب لا يستوی کندھے کی ہڈی یا فرمایا: کندھے کی ہڈی اور الْقَعِدُونَ وَخَلْفَ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى دوات لے کر آئے۔پھر آپ نے فرمایا: لکھو لا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يَسْتَوِى القعِدُونَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی الْأَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ پشت کے پیچھے حضرت عمرو بن ام مکتوم جو نابینا فَمَا تَأْمُرُنِي فَإِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ تھے، بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! الْبَصَرِ فَنَزَلَتْ مَكَانَهَا لَا يَسْتَوى آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔میں ایک نابینا شخص الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالمُجْهِدُونَ ہوں تو پھر اس وقت یہ آیت نازل ہوئی لا یستوی فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ۔الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَ اطرافه ۲۸۳۱، ٤٥٩٣، ٤٥٩٤۔المُجْهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ (النساء: ٩٦) تشريح۔كَاتِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابن کثیر نے کہا ہے کہ امام بخاری نے کتاب النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا باب باندھا ہے مگر سوائے حضرت زید بن ثابت کے کسی اور کاتب کا ذکر نہیں کیا۔امام ابن کثیر نے اپنی کتاب میں گا تب کی جگہ لفظ کتاب جمع کے ساتھ استعمال کیا ہے۔۔امام ابن حجر کہتے ہیں کہ بخاری کے تمام نسخوں میں مجھے کاتب مفرد کے ساتھ ملا ہے جو کہ اس باب کی حدیث کے مطابق ہے۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت زید بن ثابت کے علاوہ دیگر اور اصحاب کی ایک جماعت نے بھی قرآنی وحی کو لکھا۔مکہ میں جتنا بھی قرآن کا حصہ نازل ہو اوہ سارا ہی دیگر صحابہ کرام نے لکھا کیونکہ حضرت زید بن ثابت ہجرت مکہ کے بعد مسلمان ہوئے۔لیکن قرآن کریم کا جو حصہ مدینہ میں نازل ہوا اس کا اکثر حضرت زید بن ثابت نے ہی تحریر فرمایا۔پس قرآنی وحی کو کثرت سے لکھنے کی وجہ سے ”الكاتب" کا لفظ آپ پر اطلاق پاتا ہے کیونکہ اس میں لام عہد کا ہے یعنی ”وہ“ کاتب جس کا سب کو پتہ ہے۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۲۹) حضرت زید بن ثابت ایک نوجوان صحابی تھے۔جنہوں نے جنگ بدر کے قیدیوں سے عربی لکھنا پڑھنا سیکھا تھا ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع: مومنوں میں سے بغیر کسی بیماری کے گھر بیٹھ رہنے والے اور (دوسرے) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔(السيرة النبوية لابن كثير، فصل وأما كتاب الْوَحْيِ وَغَيْرِه، جزء ۴ صفحه ۶۶۹)