صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 530 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 530

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۳۰ - کتاب فضائل القرآن بَاب ٤ : كَاتِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب ٤٩٨٩ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۴۹۸۹ : يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ السَّبَّاقِ قَالَ إِنَّ زَيْدَ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابن سباق بْنَ ثَابِتٍ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ نے کہا: حضرت زید بن ثابت کہتے تھے: حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكَ كُنْتَ تَكْتُبُ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ فرمایا: تم الْوَحْيَ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وحی لکھا وَسَلَّمَ فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ فَتَتَبَّعْتُ حَتَّی کرتے تھے اس لئے اب قرآن کی جہاں جہاں ہو وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ تلاش کرو۔ چنانچہ میں نے تلاش کی۔ یہاں تک أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ کہ سورۃ توبہ کی آخری دو آیتیں حضرت ابو خزیمہ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ الْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم انصاری کے پاس پائیں۔ ان کے سوال سوا کسی کے پاس بھی میں نے ان کو نہ پایا۔ (وہ یہ ہیں:) لَقَدْ إِلَى آخِرِهِ (التوبة: ۱۲۸، ۱۲۹)۔ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ ۔۔۔ اطرافه ۲۸۰۷، ٤٠٤۹، ٤٦٧٩، ٤٧٨٤، ٤٩٨٦ ، ٤٩٨٨، ٧١٩١، ٧٤٢٥۔ ٤٩٩٠ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى :۴۹۹۰: عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِی سے ، ابو اسحاق نے حضرت برا سے روایت کی۔ الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجْهِدُونَ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: لا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : یقینا تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا۔ اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو (اور) وہ تم پر (بھلائی چاہتے ہوئے) حریص ( رہتا) ہے۔ مومنوں کے لیے بے حد مہربان ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ پیٹھ پھیر لیں تو کہہ دے میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اس پر میں تو کل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔