صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 529
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن عثمان نے کی بالکل معیوب نہ تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب لوگ قبائلی زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ سے الگ رہتا تھا اس لئے وہ اپنی اپنی بولی کے عادی تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جمع ہو کر عرب لوگ متمدن ہو گئے اور ایک عالمی زبان کی بجائے عربی زبان ایک علمی زبان بن گئی۔ کثرت سے عرب کے لوگ پڑھنے اور لکھنے کے علم سے واقف ہو گئے جس کی وجہ سے ہر آدمی خواہ کسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اُسی سہولت سے وہ لفظ ادا کر سکتا تھا جس طرح علمی زبان میں وہ لفظ بولا جاتا تھا جو در حقیقت ملک کی زبان تھی۔ پس کوئی وجہ نہ تھی کہ جب سارے لوگ ایک علمی زبان کے عادی ہو چکے تھے انہیں پھر بھی اجازت دی جاتی کہ وہ اپنے قبائلی تلفظ کے ساتھ ہی قرآن شریف کو پڑھتے چلے جائیں اور غیر قوموں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنیں۔ اس لئے حضرت عثمان نے ان حرکات کے ساتھ قرآن شریف کو لکھ کر جو مکہ کی زبان کے مطابق تھیں سب ملکوں میں کاپیاں تقسیم کر دیں اور آئندہ کے متعلق حکم دے دیا کہ سوائے مکی لہجہ کے اور کسی قبائلی لہجہ میں قرآن شریف نہ پڑھا جائے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۴۳۳، ۴۳۴) فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِي : اگرچہ ہزاروں صحابہ قرآن شریف کے حافظ تھے لیکن قرآن شریف کو لکھتے وقت ہزاروں صحابہ کو جمع کرنا تو نا ممکن تھا۔ اس لیے حضرت ابو بکر نے حکم دے دیا کہ قرآن کریم کو تحریری نسخوں سے نقل کیا جائے اور ساتھ ہی یہ احتیاط کی جائے کہ کم سے کم دو حافظ قرآن کے اور بھی اس کی تصدیق کرنے والے ہوں۔ چنانچہ جمع قرآن کے وقت اس کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت زید نے جو یہ کہا کہ سورۃ توبہ کا آخری حصہ میں نے ابو خزیمہ (انصاری) کے پاس پایا۔ ان کے سوا کسی کے پاس بھی اسے نہ پایا۔ (روایت نمبر ۴۹۸۶) اس بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس آیت کو ان کے سوا کسی اور کے پاس لکھا ہوا نہیں پایا تھا کیونکہ وہ فقط حفظ کو کافی قرار نہیں دیتے تھے بلکہ اس آیت کا لکھا ہوا ہونا بھی ضروری قرار دیتے تھے۔ ( فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۲۰) ان روایات میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دو صحابہ کے ملتے جلتے ناموں کی وجہ سے یہ غلطی لگتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سورۃ التوبہ کا آخری حصہ جس صحابی سے ملا ان کا نام حضرت ابو خزیمہ انصاری ہے۔ اور جس صحابی سے سورۃ الاحزاب کی آخری آیت ملی وہ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری ہیں۔ جن کی گواہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر دو آدمیوں کے برابر قرار دی تھی۔ اے (مسند احمد بن حنبل، حدیث خزيمة بن ثابت رضی الله عنه، جزء ۵ صفحه (۲۱۵)