صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 528 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 528

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۸ ۶۶- کتاب فضائل القرآن ما تحت قرآن مجید کو ایک مصحف یعنی جلد یا کتاب کی صورت میں اکٹھا کر کے لکھاتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتب کردہ قرآن کی ایک مستند اور یکجائی کا پی ضبط میں آجاوے اور روایت سے پتہ لگتا ہے کہ پھر اسی مصحف سے بعد میں حضرت عثمان خلیفہ ثالث نے متعدد مصدقہ نقلیں تیار کراکے انہیں اس وقت کی اسلامی دنیا کے مختلف علاقوں میں بھجوا دیا اور پھر انہی مصدقہ نقول سے آگے مزید اشاعت ہوتی گئی۔ کے علاوہ ازیں ہر زمانہ میں ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ نے قرآن کریم کو اپنے سینوں میں لفظ بلفظ محفوظ کر کے اس کی حفاظت کا ایک مزید ظاہری سبب مہیا کیا۔ اس بات کا اندازہ کرنے کے لیے کہ مسلمانوں کو قرآن شریف کے حفظ کرنے کا کس قدر شوق رہا ہے۔ صرف یہ روایت کافی ہے کہ جب ایک دفعہ کسی غرض سے حضرت عمرؓ کو قرآن کے حفاظ کے پتہ لینے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس وقت کی اسلامی افواج کے صرف ایک دستہ میں تین سو سے زائد حافظ قرآن تھے۔ کے موجودہ زمانہ میں بھی جبکہ لوگوں میں دین کا شوق بہت کم ہو گیا ہے۔ اسلامی دنیا میں حفاظ قرآن کی تعداد یقین لاکھوں سے کم نہیں ہو گی ۔ “ (سیرت خاتم النبیین صلی الم از حضرت مرزا بشیر احمد ایم۔ اے صفحہ ۵۹۸ تا ۲۰۰) أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ: حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا: یا امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالیں پیشتر اس کے کہ وہ کتاب میں اس طرح اختلاف کرنے لگیں جس طرح ہود و نصاری نے اختلاف کیا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” حضرت عثمان کے زمانہ میں یہ شکایت آئی کہ مختلف قبائل کے لوگ مختلف قراء توں کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھتے ہیں اور غیر مسلموں پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی نسخے ہیں۔ اس قراءت سے مراد یہ ہے کہ کوئی قبیلہ کسی حرف کو زبر سے پڑھتا ہے دوسرا زیر سے پڑھتا ہے تیسرا پیش سے پڑھتا ہے اور یہ بات سوائے عربی کے اور کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے عربی نہ جاننے والا آدمی جب یہ سنے گا تو وہ سمجھے گا کہ یہ کچھ کہہ رہا ہے اور وہ کچھ کہہ رہا ہے حالانکہ کہہ وہ ایک ہی بات رہے ہوں گے۔ پس اس فتنہ سے بچانے کے لئے حضرت عثمان نے یہ تجویز فرمائی کہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جو نسخہ لکھا گیا تھا اس کی کاپیاں کر والی جائیں اور مختلف ملکوں میں بھیج دی جائیں اور حکم دے دیا جائے کہ بس اسی قراءت کے مطابق قرآن پڑھنا ہے اور کوئی قراءت نہیں پڑھنی۔ یہ بات جو حضرت (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ) ( فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۸،۱۷) (کنز العمال، باب فى القرآن، فصل في فضائل القرآن)