صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 527 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 527

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۷ -۶- کتاب فضائل القرآن کی زندگی میں ہی آپ کی ہدایت کے ماتحت ہو گیا تھا اور یہ صرف ایک قیاس ہی نہیں بلکہ حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے۔چنانچہ عبد اللہ بن عباس سے روایت آتی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان خلیفہ ثالث فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جب آپ پر کوئی وحی نازل ہوتی تھی تو آپ اپنے کاتب وحی کو بلوا کر اسے وہ وحی لکھوا دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ فرما دیتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں موقع پر رکھو۔اسی طرح آپ خود ہی سورتوں کی ترتیب بھی مقرر فرما دیتے تھے۔لے اور یہ طریق آپ کا ابتداء دعویٰ نبوت سے تھا۔چنانچہ مکہ کے ابتدائی سالوں میں حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو انہیں اسلام کی تحریک قرآن کی تلاوت سے ہی ہوئی تھی جو خباب بن الارث ایک لکھے ہوئے صحیفہ سے حضرت عمر کی بہن اور بہنوئی کو پڑھ کر سنا رہے تھے۔کے الغرض قرآن شریف شروع سے ہی ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں آکر مرتب ہوتا اور جمع ہوتا گیا تھا۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ اپنی نمازوں میں قرآن شریف کی باقاعدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات نمازوں میں لمبی لمبی قرآتیں پڑھتے تھے۔چنانچہ ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے ایک ہی تہجد یعنی نصف شب کی نماز میں قرآن شریف کی پہلی پانچ سورتوں کی جو مجموعی طور پر قرآن کریم کے پنجم حصہ کے برابر بنتی ہیں اکٹھی اور بالترتیب قرآت فرمائی تھی۔ہے اور یہی وہ لمبے قیام ہیں جن کی وجہ سے بسا اوقات آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔کے اور بعض روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آپ ہر سال ماہ رمضان میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن شریف کا دور فرمایا کرتے تھے اور آخری سال دو دفعہ مکمل دور فرمایا ہے سب باتیں اس بات کو یقینی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ قرآن شریف کی ترتیب اور جمع کا حقیقی کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔پس زید بن ثابت کے جمع کرنے سے صرف یہ مراد ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر خلیفہ اول کے حکم اور ان کی نگرانی کے (سنن الترمذي، أبواب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ) (سنن ابی داؤد، أَبْوَابُ تَفْرِيحِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ، بَابُ مَنْ جَهَرَ بِهَا ) السيرة النبوية لابن هشام، إسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ، حَدِيثُ آخَرُ عَنْ إِسْلَامِ عُمر ، جزء اول صفحه ۳۴۳) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، إسلام الفاروق، المجلد الثانی، صفحه ۵) (سنن أبي ابو داؤد ، باب تَفْرِيحِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ) (بخاری، ابواب التهجد، باب قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ) (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض القرآن)