صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 32
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة کا سارا ریکارڈ زبان بیان کرنا شروع کر دے گی۔ پھر ہاتھوں پر سوئی رکھی جائے گی تو ہاتھ بولنا شروع کر دیں گے کہ فلاں دن اس نے فلاں کو مارا اور فلاں دن اس نے ان کا یوں مال اٹھایا۔ پھر پاؤں بیان کرنا شروع کر دیں گے کہ فلاں رات کو فلاں کے گھر سیندھ لگانے کے لیے یا فلاں کا مال اُٹھانے کے لیے یا اس کو قتل کرنے کے لیے یا اور کوئی نقصان پہنچانے کے لیے یہ شخص گیا۔ غرض کانوں، آنکھوں اور چمڑوں کے علاوہ زبانیں بھی اور ہاتھ اور پاؤں بھی اپنے اپنے حصہ کے ریکارڈ سنائیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة النور ، زير آيت يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمُ الْسِنَتُهُمْ ، جلد ۶ صفحه ۲۸۹) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ موعود رضی اللہ عنہ نے سورۃ الانفطار کی آیات ۱۱ تا ۱۳ کی تفسیر میں بھی اس مضمون کو نہایت بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر جلد ۸ صفحہ ۲۶۶، ۲۶۷۔