صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 526 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 526

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۶ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن الْأَحْزَابِ حِيْنَ نَسَحْنَا الْمُصْحَف مصحف کو نقل کیا تو مجھے سورۃ الاحزاب میں سے قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ایک آیت نہ ملی جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فَالْتَمَسْنَاهَا کو پڑھتے سنا کرتا تھا۔ہم نے اس کو ڈھونڈا، آخر فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتِ ہمیں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس الْأَنْصَارِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا وہ آیت ملی یعنی مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالُ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ (الأحزاب: (٢٤) مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ یعنی مومنوں میں ایسے مرد فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اُسے سچا کر کے دکھایا۔اس لئے ہم نے مصحف الْمُصْحَفِ۔میں جس سورۃ میں وہ تھی اس میں شامل کر دی۔اطرافه : ۲۸۰۷، ٤٠٤۹، ٤٦٧٩، ٤٧٨٤، ٤٩٨٦، ٤۹۸۹، ١٩١، ٧٤٢٥۔تشریح: تجمع القرآن: قرآن کا جمع کیا جانا۔اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: حضرت زید بن ثابت انصاری نے حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں قرآن کریم کو مصحف کی صورت میں جمع کر کے لکھا تھا۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن مجید جمع نہیں تھا۔بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن کریم جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا جاتا تھا، آپ اسے الہی تفہیم کے ماتحت ترتیب دے کر نہ صرف خود اسے یاد کرتے جاتے تھے بلکہ بہت سے دوسرے صحابہ کو بھی یاد کرا دیتے تھے۔اور جو صحابہ اس معاملہ میں زیادہ ماہر تھے ان کا آپ نے یہ فرض مقرر کیا تھا کہ وہ دوسروں کو سکھائیں اور مزید احتیاط کے طور پر آپ اسے ساتھ ساتھ لکھواتے بھی جاتے تھے۔چنانچہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ یہی زید بن ثابت جنہوں نے بعد میں قرآن شریف کو ایک جلد کی صورت میں اکٹھا کر کے لکھا اور جو ایک غیر معمولی طور پر ذہین آدمی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآنی وحی کو قلمبند کرنے پر مامور تھے۔کے اور ان کے علاوہ بعض اور اصحاب بھی اس خدمت کو سر انجام دیتے تھے۔غرض قرآن مجید کے جمع و ترتیب کا حقیقی کام سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب القراء من أصحاب النبي ﷺ) م الله کے (بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب کتاب النبی ﷺ)