صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 525
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۵ - کتاب فضائل القرآن فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ اختلاف کیا۔حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کو فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس مصحف بھیج دیں تا کہ ہم دوسرے مصاحف میں (سورتوں کو) نقل کروا فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ لیں۔پھر ہم آپ کو وہ واپس کر دیں گے۔الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَ الرحیم حضرت حفصہ نے حضرت عثمان کو وہ (اوراق) عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ بھیج دیئے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت، فَنَسَحُوْهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت سعید بن عاص عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّيْنَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اور حضرت عبد الرحمن بن حارث بن ہشام کو حکم اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي دیا اور انہوں نے مصاحف میں ان (سورتوں) کو شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ نقل کیا اور حضرت عثمان نے ان تین قریشیوں کی قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوْا جماعت سے فرمایا: جب تم اور زید بن ثابت حَتَّى إِذَا نَسَحُوا الصُّحُفَ فِي قرآن کی کسی قراءت کے متعلق اختلاف کرو تو الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى اِس کو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھو۔کیونکہ قرآن انہی کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا۔حَفْصَةَ فَأَرْسَلَ إِلَى كُلِ أُفُقِ انہوں نے ایسا ہی کیا۔جب انہوں نے ان بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوْا وَأَمَرَ بِمَا ورتوں کو مصاحف میں نقل کر لیا تو حضرت سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيْفَةٍ أَوْ عثمان نے وہ اوراق حضرت حفصہ کو واپس کر دیئے اور ان (مصاحف) سے ایک ایک مصحف ہر علاقے میں بھیج دیا اور اس قرآن کے سوا جو بھی ( قرآن کی کوئی آیت) کسی پرچے یا ورقے پر تھی سب کو جلا دینے کا حکم دیا۔مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ۔اطرافه ٣٥٠٦، ٤٩٨٤۔٤٩٨٨: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي :۴۹۸۸ ابن شہاب نے کہا اور مجھے خارجہ بن خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعَ زَيْدَ زید بن ثابت نے بتایا۔انہوں نے حضرت زید بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فَقَدْتُ آيَةً مِنَ بن ثابت سے سنا۔انہوں نے کہا: جب ہم نے