صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 524
حیح البخاری جلد ۱۳ ۵۲۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُول کے سینوں سے اکٹھا کرتا رہا یہاں تک کہ سورۃ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم تو بہ کا آخری حصہ میں نے ابوخزیمہ (انصاری) (التوبة: ۱۲۸) حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ کے پاس پایا۔ان کے سوا کسی کے پاس بھی اسے نہ پایا اور وہ یہ ہے : لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ سورة توبہ کے حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ خاتے تک۔یہ ورق حضرت ابو بکڑ کے پاس رہے ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دی۔پھر حضرت عمر کے پاس ان کی زندگی میں رہے۔پھر حضرت عمر عَنْهُ رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ کے پاس رہے۔اطرافه ۲۸۰۷، ٤۰٤۹، ٤٦٧٩، ٤٧٨٤ ٤٩٨٨، ٤۹۸۹، ١٩١، ٧٤٢٥۔٤٩٨٧ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ۴۹۸۷ : موسیٰ ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا إِبْرَاهِيْمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَنَسَ که ابراهیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ابن شہاب بْنَ مَالِكِ حَدَّثَهُ أَنْ حُذَيْفَةَ بْنَ نے ہم سے بیان کیا۔حضرت انس بن مالک نے الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ وَكَانَ ان سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا) کہ حضرت حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کے پاس آئے اور وہ آرمینیہ کے فتح کرنے کے لئے شام والوں سے اور آذربائیجان کے فتح کرنے کے لئے عراق يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ فِي فَتْحِ إِرْمِيْنِيَةَ وَأَذْرَبِيْجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ فَقَالَ والوں سے جنگ کر رہے تھے۔لوگوں کے حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قراءت کے متعلق اختلاف نے حضرت حذیفہ أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا کو فکرمند کر دیا۔حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ سے کہا: یا امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالیں وَالنَّصَارَى فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ پیشتر اس کے کہ وہ کتاب میں اس طرح اختلاف أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَفْسَحُهَا کرنے لگیں جس طرح یہود و نصاری نے ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : یقینا تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو۔