صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 521 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 521

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۱ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن کہ یہ زبان الم الالسنہ ہے یعنی سب زبانیں اسی میں سے نکلی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے ہی ظاہر کی ہے اور اس مضمون پر ایسے لطیف پیرایہ میں روشنی ڈالی ہے کہ کوئی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا۔اس زبان میں اس کلام کو اس لیے اتارا ہے کہ تا تم پورا فائدہ اٹھا سکو۔اگر یہ قرآن عربی نہ ہو تا یعنی ایسی زبان میں نہ آتا جو ہر مفہوم کو ادا کر سکتی ہے تو لوگ پورا فائدہ نہ اٹھا سکتے۔“ وو ( تفسیر کبیر جلد سوم، سوره یوسف زیر آیت انَّا اَنْزَلْنَهُ قُرْإِنَّا عَرَبِيًّا۔۔۔صفحه ۲۷۶) بلسان عربي مُّبِينٍ : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " اسے خدا تعالیٰ نے ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو اپنے مطالب کو خوب کھول کر بیان کرنے والی ہے۔در حقیقت کسی کلام کی حفاظت کا ایک یہ بھی پہلو ہوتا ہے کہ جو کلام نازل ہو اس کو سمجھنے والے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس نے قرآن کریم کو حفاظت کے اس پہلو سے بھی نوازا ہے اور اسے ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو اپنے مضمون کو آپ واضح کرتی ہے اور پھر وہ ہر قسم کے دلائل بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔مفردات راغب جو قرآنی لغت کی مشہور کتاب ہے اس میں العربی کے معنے الْمُفْصِحُ کے لکھے ہیں یعنی اپنے مدعا کو خوب صفائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والا اور الاغراب کے معنے کھولنے اور واضح کرنے کے لکھے ہیں۔پس پیلسان عربی میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری شرعی کلام اس زبان میں نازل فرمایا ہے جو مطالب کے اظہار کے لیے اپنے اندر پورا سامان رکھتی ہے اور ہر مسئلہ پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے۔اور مبین میں یہ بتایا کہ وہ صرف مقاصد کے اظہار پر ہی قدرت نہیں رکھتی بلکہ اپنے ساتھ دلائل اور براہین کا بھی ذخیرہ رکھتی ہے گویا قرآن کریم کا صرف عربی زبان میں ہونا معجزہ نہیں بلکہ قرآن کا عربی مبین ہونے میں معجزہ ہے۔یعنی اس کی ایسی زبان ہے کہ اس کے اندر دلائل بیان کیے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ہم کیوں حکم دیتے ہیں، خدا تعالیٰ کو کیوں منواتے ہیں، فرشتوں کو کیوں منواتے ہیں، رسولوں کو کیوں منواتے ہیں، جھوٹ سے کیوں منع کرتے ہیں، سچ کی کیوں تائید کرتے ہیں، ظلم سے کیوں روکتے ہیں، انصاف کی کیوں تائید کرتے ہیں۔غرض یہ عربی مبین میں ہے اور اپنے احکام کی دلیلیں بھی دیتا ہے۔جھوٹا آدمی کہہ دے گا مگر اس کی دلیل کہاں سے لائے گا۔مگر یہ کلام تو ایسی زبان میں