صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 520 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 520

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲۰ ۶۶- کتاب فضائل القرآن والعرب کے الفاظ سے یہ بتایا ہے کہ یہاں عام کا عطف خاص پر ہے۔اگر چہ لغت قریش لغت عرب میں داخل ہے لیکن قریش کا ذکر الگ کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ قریش کو باقی عربوں پر فضیلت حاصل ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۰ صفحه ۱۴) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: قریش دوسری قوموں سے بلکہ قبائل عرب میں سے بھی اس امر میں ممتاز ہیں کہ ان کی زبان میں قرآن مجید جیسی فصیح و بلیغ اور جامع حقائق و اصول شریعت کتاب نازل ہوئی اور مصحف کی کتابت کے وقت انہی کے لب ولہجہ اور انہی کے محاورات کو ترجیح دی جاتی تھی۔“ ( صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب نزل القرآن بلسان قریش، ترجمه و شرح جلد۷ صفحه ۲۱) قرانًا عَرَبِيًّا : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عربی کا لفظ عرب سے نکلا ہے جس کے معنے بھرنے اور کثرت کے ہوتے ہیں۔ع رب سے مشتق الفاظ جتنے بھی ہیں ان سب میں بھرنے اور کثرت کے معنے پائے جاتے ہیں۔پس عربی زبان کو اسی وجہ سے عربی کہتے ہیں کہ اس کے معنوں میں بہت وسعت ہے اور اس کے مادے بہت زیادہ ہیں۔ہر مضمون جو بیان کرنا چاہو اس کے لیے اس میں سامان موجود ہے۔چنانچہ یورپین لوگوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ زبان مادوں کے لحاظ سے بہت مکمل اور وسیع ہے۔مثلاً لین پول مشہور مصنف جس نے تاج العروس کا ترجمہ کیا ہے۔اس کتاب میں حسرت سے لکھتا ہے کہ عربی جیسی زبان ہمیں کوئی نظر نہیں آتی۔لاکھوں مادے عربی زبان میں پائے جاتے ہیں اور ہر مادہ با معنی ہے جس کے اندر ضرور کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔چنانچہ ابن جنی نے جو ایک بہت بڑا ادیب ہے اپنے استاد بو علی کا یہ دعوی بیان کیا ہے کہ عربی زبان کے حروف میں ہی معنوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور مثال کے طور پر اس نے ك ل ھ کو پیش کیا ہے کہ جب یہ حروف آپس میں مل کر استعمال ہوں تو قوت و طاقت کے معنے ضرور ان میں ملحوظ ہوتے ہیں۔مثلاً ملك بادشاہ مَلَكُ فرشتہ - گلم زخم۔لَكُمْ تھپڑ وغیرہ۔ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ گو حروف آگے پیچھے ہو گئے ہیں اور معنے بدلتے چلے گئے ہیں لیکن سب کے سب الفاظ میں قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔اسی طرح عرب کا لفظ ہے۔اس کے بھی جس قدر مشتقات ہیں سب میں بھرنے اور بہت ہو جانے کے معنے پائے جاتے ہیں جیسے عبور ، رعب وغیرہ۔عربی زبان کے ان کمالات کی طرف گو پہلے ائمہ زبان نے بھی توجہ دلائی ہے لیکن یہ حقیقت