صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 519
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا کے پاس ایک شخص آیا جو خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔تَضَمَّخَ بِطِيْبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اس نے کہا: یارسول اللہ ! آپ اس شخص کے متعلق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَاءَهُ الْوَحْيُ کیا سمجھتے ہیں کہ جو ایسے جسے میں احرام باندھے فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَيْ تَعَالَ جبکہ وہ جبہ خوشبو سے لتھڑ چکا ہو۔نبی صلی اللہ فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا هُوَ عليه وسلم کچھ دیر تک دیکھتے رہے۔پھر آپ کے مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ پاس وحی آئی۔حضرت عمر نے علی کو اشارہ کیا کہ آؤ۔حضرت یعلی آئے، انہوں نے اپنا سر اند ر کیا۔سُرِيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کا چہرہ سرخ ہے۔آپ بلند الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ آواز سے سانس لے رہے ہیں۔ایک گھڑی اس فَجِيْءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ طرح حالت رہی پھر آپ سے وہ حالت جاتی وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الطَّيِّبُ الَّذِي بِكَ رہی۔اور آپ نے پوچھا: وہ شخص کہاں ہے جس فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ نے مجھے ابھی عمرہ کے متعلق پوچھا تھا۔اس شخص فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا کو ڈھونڈ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔آپ نے فرمایا: وہ جو خوشبو تمہیں لگی ہوئی ہے اس کو تین بار دھو ڈالو اور جو جبہ ہے اس کو اتار دو پھر اپنے عمرہ میں وہی کرو جو اپنے حج میں کرتے ہو۔تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ۔اطرافه ۱۵۳۶، ۱۷۸۹، ١٨٤٧، ٤٣٢٩۔تشريح۔نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلِسَانِ قُرَيْشِ وَالْعَرَب: علامہ بدر الدین معنی لکھتے ہیں۔اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قرآن مجید قریش کی زبان میں نازل کیا گیا۔اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا اکثر اور بڑا حصہ کیونکہ قرآن کریم میں ایسے کلمات بھی ہیں جو لغت قریش کے خلاف ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے قرآن قریش کی زبان میں نازل کیا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے وَ كَذلِكَ انْزَلْنَهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا - (طه: ۱۱۴) اور اسی طرح ہم نے اس (کتاب) کو عربی زبان کے قرآن کی صورت میں اتارا ہے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) نیز علامہ عینی لکھتے ہیں کہ قریش کی زبان میں نزول سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کی ابتداء لغت قریش میں ہوئی پھر قرآن مجید کو دوسرے قبائل کی لغات کے موافق پڑھنے کی اجازت دی گئی۔امام بخاری نے قریش کے ساتھ