صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 31
۳۱ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة صحیح البخاری جلد ۱۲ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْضُهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا (الكهف:۵۰) اے (افسوس) ہماری تباہی (سامنے کھڑی ہے ) اس کتاب کو کیا (ہوا) ہے (کہ) نہ کسی چھوٹی بات کو اس کا احاطہ کیے بغیر چھوڑتی ہے اور نہ کسی بڑی بات کو اور جو کچھ انہوں نے کیا (ہوا) ہو گا، اسے اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) نیز سورہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ الْسِنَتُهُم وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النور: ۲۵) اُس دن جبکہ اُن کی زبانیں بھی اور اُن کے ہاتھ بھی اور اُن کے پاؤں بھی اُن کے اعمال کے متعلق جو وہ کرتے تھے اُن کے خلاف گواہی دیں گے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) آج کے دور میں ریکارڈ کی حفاظت کے اس سسٹم کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔فنگر پرنٹس کے ذریعے مجرموں کو پکڑنے کا جو تصور سائنس نے آب پیش کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی نے چودہ سو سال پہلے یہ بات بیان کر دی کہ انسانی جسم کے اعضاء سے جو افعال صادر ہوتے ہیں وہ ایک محفوظ کتاب میں ریکار ڈ ہو رہے ہیں اور جب حساب کتاب ہو گا تو انسانوں کی جلدیں اور اعضاء اُن افعال کی گواہی دیں گے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” قیامت کے دن جو انسان کی جواب طلبی ہو گی وہ محض فرشتوں کی گواہی کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ ہر انسان کے بدن کے اعضاء بھی اپنے جرائم کا اقبال (Confession) کریں گے۔اس میں غالب کے اس شاعرانہ تخیل کا بھی جواب آگیا کہ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا؟ اس روز آدمی خود اقبالِ جرم کر رہا ہو گا۔قرآنِ کریم کا نظام عدل بڑا مضبوط ہے۔گواہیاں بھی ہوں گی اور Confession بھی۔“ ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، سورۃ ابلیس، حاشیہ آیت ۶۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دن مجرموں پر اُن کے اعمال کی حقیقت ظاہر کرنے کے لیے الہی ریکارڈنگ مشین کی سوئی اُن کی زبان پر رکھ دی جائے گی اور زبان بولنا شروع کر دے گی کہ حضور فلاں دن اس نے خدا کو گالی دی۔فلاں دن اس نے نبیوں کو گالی دی۔فلاں دن اس نے اپنے ہمسائے کو گالی دی۔فلاں دن اس نے اپنی بیوی کو گالی دی۔فلاں دن اس نے حرام کا مال چکھا اور فلاں دن اس نے یہ یہ الزام لگایا۔غرض سارے