صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 517
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۷ -۶۶- کتاب فضائل القرآن (نعوذ باللہ ) نے اب تم کو چھوڑ دیا ہے۔اس پر اللہ عزو جل نے یہ سورۃ (الضحی) نازل کی۔مخالفین انبیاء اس قسم کے لایعنی اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔امام بخاری تصریف روایات سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کا سلسلہ کبھی بھی منقطع نہیں ہوا۔اس مضمون کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب آئینہ کمالات اسلام کی عارفانہ تحریرات سے خلاصۂ دیا گیا ہے: زمانہ فترت سے مراد دراصل وہ زمانہ ہے جس میں جبرائیل کی خاص تجلی جس کا تعلق قرآن مجید کے نزول کے ساتھ ہے، ایک وقت تک موقوف رہی۔ورنہ یوں تو روح القدس جو انبیاء اور اولیاء اللہ کی نئی زندگی کے لئے بطور روح رواں کے ہوتا ہے، ایک لحظہ کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کی دو قسم کی تجلیات اس کے خاص بندوں پر ہوتی ہیں۔ایک تجلی تو ہر وقت ان کے ارادوں میں روح القدس کے ذریعے سے کام کرتی رہتی ہے اور ایک تجلی جبرائیل کے ذریعے سے تمثلی رنگ میں پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور اس جبرائیلی تجلی میں جو عارضی وقفہ ہوتا ہے، اس کا نام زمانہ فترت ہے اور اس وقفہ سے یہ مراد نہیں کہ جبرائیل کسی وقت آسمان سے اترتا ہے اور پھر انبیاء کو چھوڑ کر آسمان پر چلا جاتا ہے۔جبرائیل اسی طرح اپنے مقام پر رہ کر اللہ تعالیٰ کی مشیت کی تجلیات ہر وقت اور ہر جگہ پہنچا تا رہتا ہے، جس طرح سورج پانی میں نظر آتا ہے مگر در حقیقت سورج نیچے نہیں اترتا۔اسی طرح جبرائیل کا نزول تمثلی رنگ میں ہوتا ہے ، نہ حقیقی طور پر۔پس جس طرح جبرائیل کا آسمان سے اتر نا عام متعارف معنوں میں نہیں، اسی طرح جبرائیلی تجلی میں یہ وقفہ پڑنا بھی اپنے حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ اس روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں انبیاء کے شامل حال ہوتی ہے اور ان کے اندر سکونت رکھتی ہے۔یہی مذہب ہے تمام اہل اللہ کا۔نیز ان تحریرات میں ضرورت ملا ئکہ اور ان کی تجلیات کے متعلق بحث کی گئی ہے وہاں اس اعتراض کا بھی کامل جواب دیا گیا ہے کہ جب روح القدس انبیاء سے جدا نہیں ہو تا تو پھر انبیاء سے بعض اوقات غلطیاں کیوں ہوتی ہیں جیسے نماز میں بھول جانا وغیرہ۔( دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲-۱۲۶) بَاب ۲ : نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ وَالْعَرَبِ قرآن مجید قریش کے محاورہ پر عربی زبان میں اترا قُرْآنًا عَرَبِيًّا (يوسف: (۳) بِلِسَان (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) اپنے مطالب کو خوب عَرَبيّ مُّبِينٍ (الشعراء: (٣) واضح کرنے والا قرآن (نیز فرمایا:) کھول کر بیان کرنے والی عربی زبان میں۔٤٩٨٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۴۹۸۴ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی