صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 516 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 516

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۶ ۶۶- کتاب فضائل القرآن ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا۔ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه صفحه ۲۲۵) ليت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَشَرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ: نبي صلى الله علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور آپ پر قرآن نازل ہو تا رہا۔بعض روایات میں ذکر ہے کہ آپ مکہ میں تیرہ سال اور مدینہ میں دس سال رہے۔روایات کے اس اختلاف کا حل یہ کیا گیا ہے کہ ا۔شمار کرنے والوں نے اعداد کے بیان میں کسر کو چھوڑ دیا ہے۔۲۔بعض نے آپ کے اڑھائی پونے تین سال کے زمانہ شعب ابی طالب کو شمار نہیں کیا۔۔اور بعض نے آپ کی بعثت کے ابتدائی تین سال شمار نہیں کیے جب آپ کا پیغام صرف قریبی رشتہ داروں کے لیے تھا۔چوتھے سال یہ آیت نازل ہوئی: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (الحجر: (۹۵) پس خوب کھول کر بیان کر جو تجھے حکم دیا جاتا ہے۔اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعثت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں قریباً تیرہ سال ٹھہرے۔بعض روایات میں دس سال بیان کیے گئے ہیں۔یہ بھی ایک لحاظ سے درست ہے کیونکہ ابتدائے وحی کے بعد آپ نے تین سال تک اپنے مشن کو مخفی رکھا تھا۔پس اگر ان تین سالوں کو نکال دیں تو باقی دس سال ہی رہ جاتے ہیں۔بہر حال یہ مسلم ہے کہ ہجرت کے وقت آپ کی عمر ترپن سال کی تھی۔بعثت نبوی عام الفیل کے چالیسویں سال ماہ رمضان میں ہوئی تھی اور چونکہ رمضان عربی مہینوں میں نواں مہینہ ہے اس لیے بعثت نبوی کا پہلا سال صرف چند ایام اور تین ماہ یعنی بقیہ رمضان اور شوال، ذیقعد اور ذی الحجہ کا شمار ہوتا ہے اور چونکہ ہجرت نبوی ۱۴ نبوی ابتداء ماہ ربیع الاول میں ہوئی تھی۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد از بعثت کی قیام در اصل صرف بارہ سال پانچ ماہ اور چند ایام کا بنتا ہے۔ہاں رویا صالحہ کا زمانہ یعنی ابتدائی چند ماہ بھی زمانہ کنبوت میں شمار کر لیے جاویں تو یہ کل عرصہ قریباً تیرہ سال کا ہو جاتا ہے۔66 (سیرت خاتم النبيين صلى علم ، صفحہ ۲۷۰ ۲۷۱) فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ مَا أُرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَد تَرَكَكَ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تہجد کے لئے نہیں اٹھے۔یہ دیکھ کر آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: محمد میں سمجھتی ہوں تمہارے شیطان