صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 515
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۵ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن تشريح : كَيْفَ نَزَلَ الْوَحْيُ وَأَوَّلَ مَا نَزَل: وحی کا نزول کیے ہوا اور پہلے کوئی (سورۃ ) نازل ہوئی۔ بخاری کے آغاز میں پہلے باب کے الفاظ ہیں : كَيْفَ كَانَ بَدء الوحي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی۔ اس پر بعض شارحین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ بخاری کے آغاز میں وحی کی ابتداء کا بیان کر دیا گیا ہے تو اس کے اعادہ کی یہاں کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں دو باتوں کا ذکر ہے۔ اوّل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز کیسے ہوا۔ دوم: نزول وحی کی کیفیت کیا تھی۔ اول الذکر کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آپؐ پر وحی کا آغاز رویاء صادقہ سے ہوا۔ موخر الذکر میں وحی کی کیفیت بتائی گئی ہے۔ اور اس کے متعلق دو مشاہدے مذکور ہیں۔ ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جن پر وہ کیفیت گذرتی تھی اور ایک حضرت عائشہ کا جو اس کیفیت کے ظاہری آثار دیکھنے والی ہیں جبکہ فضائل القرآن میں كَيْفَ نَزَلَ الْوَحْى وَأَوَّلُ مَا نَزَل سے مراد قرآنی وحی ہے۔ پس فضائل القرآن میں قرآنی وحی کے نزول اور اس کی تفصیلات کا ذکر ہے۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْمُهَيْمِنُ الْأَمِينُ : قرآن کریم کی وحی کی عظمت شان کے ذکر میں امام بخاری نے اس کتاب کا آغاز حضرت ابن عباس کے اس قول سے کیا ہے : الْمُهَيْمِنُ الْأَمِينُ یعنی قرآن مجید ہر اس کتاب (شریعت) کا امین ہے جو اس سے پہلے نازل کی گئی۔ المهيمن اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ وَأَصْلُ الهَيْمَنَةِ الْحِفْظُ وَالْإِرْتِقَابُ تَقُولُ هَيْمَنَ فُلَانٌ عَلَى فُلَانَ إِذَا صَارَ رَقِيبًا عَلَيْهِ فَهُوَ مُهَيْمِن هَيْمَنَة کے معنی حفاظت اور نگرانی کے ہیں۔ جب کوئی کسی کا نگران بنے تو اسے مھیمن کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کے اس قول سے متعلق امام ابن حجر نے یہ توجیہ کی ہے کہ قرآن کریم ضامن ہے کتب سماویہ کا یعنی جو احکام ان کتب میں اترے، قرآن نے یا تو ان کو بر قرار رکھا، یا اُن کو منسوخ کر دیا، یا پھر اُن کی تجدید فرمادی۔ ( فتح الباری جزء ۹ صفحه (۶) حضرت ابن عباس کا یہ اثر ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلحہ کی روایت سے سورۃ المائدہ کی اس آیت کے ذیل میں دیا ہے : وَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الكتبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَبِ وَ مُهَيْمِنَّا عَلَيْهِ فَاحْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا (المائدۃ: ۴۹) اور ہم نے (المائدۃ:۴۹)' تجھ پر اس کتاب کو حق پر مشتمل اتارا ہے۔ وہ اپنے سے پہلی کتاب (کی باتوں) کو پورا کرنے والی ہے اور اس پر محافظ ہے۔ پس تو اس (کتاب) کے مطابق جو اللہ نے (تجھ پر ) اتاری ہے اُن کے درمیان فیصلہ کر اور جو حق تیری طرف آیا ہے اُسے چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے اپنی اپنی استعداد کے مطابق الہامی) پانی تک پہنچنے کے لیے ایک چھوٹا یا بڑا راستہ بنایا ہے۔ (ترجمہ از تفسیر صغیر) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو قرآن میں تین صفتیں ہیں۔ اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ا۔ (تفسير القرآن العظيم لابن ابي حاتم ، سورة المائدة ، قوله تعالى وَمُهَيْمِنًا، جزء ۴ صفحه ۱۱۵۰)