صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 514
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ کہا: میرے باپ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكِ صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَابَعَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے پہلے {الْوَحْيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تَوَفَّاهُ پے در پے وحی بھیجی۔وفات کے قریب قریب أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ ثُمَّ تُوُفِّيَ تو بہت ہی وحی ہوئی۔پھر اس کے بعد رسول اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ۔صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے۔٤٩٨٣: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۹۸۳: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسود بن قیس سَمِعْتُ جُنْدَبًا يَقُوْلُ اشْتَكَى النَّبِيُّ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةٌ جندب (بن عبد اللہ بجلی) سے سنا۔وہ کہتے تھے: أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دورات مُحَمَّدُ مَا أُرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَدْ تہجد کے لئے نہیں اٹھے۔تو یہ دیکھ کر) آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: محمد میں سمجھتی ہوں تَرَكَكَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے شیطان نے اب تم کو چھوڑ دیا ہے۔اس والضُّحى وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَعَكَ پر اللہ عزو جل نے یہ (سورۃ ) نازل کی : میں دن کو ربُّكَ وَمَا قَلَى (الضحى : ٢-٤) شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں، جب وہ روشن أطرافه: ١١٢٤، ١١٢٥، ٤٩٥٠، ٤٩٥١۔66 ہو جائے۔اور رات کو (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) جب اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جائے۔کہ نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔لفظ ”الوحى" عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحہ ۱۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔