صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 513
صحیح البخاری جلد ۱۲ والله ۶۶- کتاب فضائل القرآن فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھیں۔ وہ آپ سے باتیں کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ كَمَا قَالَ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ فَلَمَّا قَامَ قَالَتْ ہیں ؟ یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے۔ حضرت ام سلمہ وَاللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ نے کہا: یہ دحیہ کلبی) ہیں۔ جب وہ اٹھ کر چلے خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گئے تو کہنے لگیں اللہ کی قسم میں ان کو وہ بجھتی رہی یہاں تک کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا يُخْبِرُ خَبَرَ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ خطبہ سنا جس میں آپ نے جبرائیل کے آنے کا أَبِي قُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ واقعہ بیان کیا یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔ میرے باپ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ۔ (سلیمان) نے کہا: میں نے ابو عثمان (نہدی) سے طرفه ٣٦٣٤ - پوچھا: آپ نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: رم حضرت اسامہ بن زید سے۔ ٤٩٨١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۹۸۱: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ مقبری سے ، سعید نے اپنے باپ (کیسان) سے، عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وَسَلَّمَ مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ نے فرمایا: انبیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيَا أَوْحَاہ ایسے ایسے نشانات نہ دیئے گئے ہوں کہ جن کے ذریعہ سے لوگ اس پر ایمان لائے اور جو نشان مجھے اللهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ دیا گیا ہے وہ یہ وحی ہے : یا ہے وہ یہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ طرفه ٧٢٧٤ - کی۔ اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ میں قیامت کے دن سب انبیاء سے زیادہ پیرو رکھوں گا۔ ٤٩٨۲ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۹۸۲ عمرو بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ