صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 511
حیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۱ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الناس إِذَا وُلِدَ خَنَسَهُ الشَّيْطَانُ : جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چوب لگاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” بخاری کی کتاب التفسیر صفحہ ۶۵۲ میں ایک حدیث ہے جس کی یہ عبارت ہے۔مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ فَيَسْعَبِلُ صَارِخًا مِنْ مَيْ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْتَهَا یعنی کوئی ایسا بچہ نہیں جو پیدا ہوا اور پیدا ہونے کے ساتھ شیطان اس کو نہ چھو جائے اور وہ بوجہ شیطان کے چھونے کے چیچنیں نہ مارے بجز مریم اور اس کے بیٹے کے۔جاننا چاہئے کہ یہ حدیث صفحہ ۷۷۶ کی حدیث سے معارض پڑتی ہے اور شارح بخاری صفحہ ۶۵۲ کی حدیث کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ زمخشری کو اس حدیث کی صحت میں کلام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے معارض ہے وجہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ) اس آیت سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ بغیر خصوصیت مریم اور ابن مریم کے تمام عباد مخلصین مس شیطان سے محفوظ رکھے جاتے ہیں اور یحییٰ علیہ السلام کے حق میں فرماتا ہے و سَلامُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ کے پس اگر یوم تولد مس شیطان کا یوم ہے تو سلام کا لفظ جو سلامتی پر دلالت کرتا ہے کیونکر اس پر صادق آسکتا ہے۔پھر علامہ زمخشری نے تاویل کی ہے کہ اگر مریم اور ابن مریم سے مراد خاص یہی دونو نہ رکھے جائیں بلکہ ہر ایک شخص جو مریم اور ابن مریم کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اس کو بھی مریم اور ابن مریم ہی قرار دیا جاوے تو پھر اس حدیث کے معنے بلاشبہ صحیح ہو جائیں گے۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ حاشیه صفحه ۱۰۴،۱۰۳) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” سوائے اُن میں سے تیرے چنیدہ بندوں کے “ (الحجر: ۴۱) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور سلامتی ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا“ (مریم : ۱۶) کرج وو