صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 510 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 510

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱۰ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الناس نیز فرمایا: ” اس سورۃ شریفہ کے شانِ نزول کے بارہ میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج کی رات مجھ پر اس قسم کی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے کبھی نہیں دیکھیں وہ معوذتین ہیں۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم جن وانس کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے ، مگر جب معوذ تین نازل ہوئیں تو آپ نے اور طرح اس امر کے متعلق دعا کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ ان الفاظ میں دعا مانگتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوا کرتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۵۸۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ما حصل اس سورۃ کا یہ ہے کہ تم دجال کے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ پکڑو۔اس سورۃ سے پہلے سورۃ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے رد میں ہے۔بعد اس کے سورة فلق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخر ایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سایہ چلتا ہے اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہو گا جن کے ساتھ نَفَاقاتِ فِي الْعُقد ہوں گی۔یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقد نکاح کو توڑیں۔خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ تینوں سورتیں قرآن شریف کی دجالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔“( ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۹۷،۲۹۶)