صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 509 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 509

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۹ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الناس ملوکیت کا بھی دعویٰ کریں گے یعنی ان کی سیاست پر قبضہ کر لیں گے اور پھر گویا خود معبود بن جائیں گے اور جو ان کی عبادت کرے اس کو تو وہ عطا کریں گے اور جو ان کی عبادت کا انکار کرے اس کو وہ رسوا کر دیں گے۔ان کا سب سے خطرناک ہتھیار یہ ہو گا کہ ایسے وسوسے پیدا کرنے والے کی طرح ہوں گے جو خناس ہوگا یعنی دلوں میں وسوسہ پیدا کر کے پھر آپ غائب ہو جائیں گے یہی حال اس زمانے کی بڑی طاقتوں یعنی Capitalism کا بھی ہو گا اور عوامی طاقتوں یعنی اشتراکیت (Communism) کا بھی ہو گا۔پس جو بھی ان تمام امور سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے گا اللہ تعالیٰ اسے بچالے گا۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الناس صفحہ ۱۲۳۰) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ شریفہ میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ کا فتنہ محض دعا کے ذریعہ سے دور ہو گا۔چنانچہ اس کی تائید میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ کفار مسیح موعود کے دم سے مریں گے۔اور حضرت مرزا صاحب سے میں نے بار ہا ئنا ہے۔آپ فرمایا کرتے ہیں کہ اس قدر فتنہ کا مٹانا ظاہری اسباب کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔ہمارا بھروسہ صرف ان دعاؤں پر ہے جو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور میں کرتے ہیں۔خداوند تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سُنے گا اور وہ خود ہی ایسے سامان مہیا کرے گا کہ کفر ذلیل ہو جائے گا اور اسلام کے واسطے غلبہ اور عزت کے دن آجائیں گے۔لطیفہ کسی نے کہا ہے کہ قرآن شریف کا ابتداء حرف ”ب“ سے ہوا ہے۔اور آخر ”س“ کے ساتھ ہوا ہے۔یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن شریف انسان کے واسطے بس ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ (الأنعام: ۳۹) اس کتاب میں کسی شے کی کمی نہیں رہی۔اس مضمون کو کسی نے فارسی میں اس طرح ادا کیا ہے۔اول و آخر قرآن زچه با آمد و ”س“ یعنی اندر دو جہاں رہبر ما قرآن بس ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۸۲)