صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 508
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۸ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الناس ١١٤ - سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَقَالَ ابْنِ عَبَّاسُ الْوَسُوَاسِ اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ الوسواس سے یہ (الناس: ٢) إِذَا وُلِدَ خَنَسَهُ الشَّيْطَانُ مراد ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو فَإِذَا ذُكِرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَهَبَ وَإِذَا چوب لگاتا ہے۔اگر اللہ عز و جل کا نام لیا جائے تو لَمْ يُذْكَرِ اللَّهَ ثَبَتَ عَلَى قَلْبِهِ۔وہ چلا جاتا ہے اگر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو اُس کے دل پر ٹھہر جاتا ہے۔٤٩٧٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۹۷۷ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي سفيان ( بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔عبدہ بن ابی لبابہ لُبَابَةَ عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشِ ح وَحَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے زر بن حبیش عَاصِمٌ عَنْ زِيّ قَالَ سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ سے روایت کی۔(سفیان نے کہا۔) نیز عاصم (بن كَعْبِ قُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّ أَخَاكَ إِلى نجود) نے بھی ہمیں بتایا۔انہوں نے زر سے ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابی أُبَى سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ بن کعب سے پوچھا۔میں نے کہا: ابو منذر ! آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي قِيلَ لِي فَقُلْتُ کے بھائی حضرت ابن مسعود ایسا ایسا کہتے ہیں تو قَالَ فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ حضرت اُبی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے فرمایا: مجھے کہا گیا کہ کہو ) میں نے بھی ویسا کہا، حضرت ابی کہتے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه: ٤٩٧٦ - تشریح : دو تھے: اس لئے ہم بھی ویسے ہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سُورَةُ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ : حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سورت یہودیت اور عیسائیت کی ان تمام مجموعی کوششوں کو خلاصہ پیش کرتی ہے جن کے خدو خال یہ ہوں گے کہ وہ بنی نوع انسان کی ربوبیت کا دعوی کریں گے یعنی ان کی اقتصادیات کے بھی مالک بن بیٹھیں گے اور اسی طرح