صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 507
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۷ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۶۵ - كتاب التفسير / قل اعوذ برب الفلق اس سورۃ شریفہ میں جو قرآن شریف کی آخری سورتوں میں سے ہے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک بڑا فتنہ ہو گا۔ ایک بہت بڑا شر اٹھے گا اور وہ ایسے وقت میں ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ زمانہ میں تاریکی کو دور کرنے کے واسطے ایک صبح کو نمودار کریگا۔ کیونکہ وہ رب الفلق ہے اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور تاریکی کے بعد نور پیدا کرتا ہے۔ اس شر سے بچنے کے واسطے تمام مسلمانوں کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ وہ بڑا بھاری شرح شتر ہے۔ اُس شر کا شر کا پیدا کرنیوالا خفیہ کاروائیاں بہت کریگا۔ اور چھپ چھپ کر اپنی سازشیں دین حق کے بر خلاف نہایت جدوجہد کے ساتھ کریگا۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ جس قدر خفیہ کاروائیاں مشن کا دجال اسلام کے بر خلاف کرتا ہے۔ ایسی کاروائیاں پہلے کبھی کسی نے نہیں کیں۔ ایسے ایسے راہوں سے اسلام پر حملہ کرنے کے واسطے کوشش کی جاتی ہے کہ عوام تو سمجھ بھی نہیں سکتے کہ اس معاملہ میں کیا در پردہ شرارت ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں ایک ایسا نور پیدا کیا ہے جس نے نمودار ہو کر ان تمام پردوں کو پھاڑ دیا ہے اور دجال کا دجل کھول کر لوگوں کو دکھا دیا ہے تاکہ مخلوقِ الہی اس کے شر سے بچی رہے۔ اور اس کے پھندے میں نہ آئے۔ افسوس ہے اُن لوگوں پر جو خدا تعالیٰ کے اس نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ یہ نورِ الٰہی ضرور غالب آئے گا اور اس کے مخالف سب نامراد اور ناکام مریں گے۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۴، صفحہ ۵۷۸،۵۷۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " سورة الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تثبت اور سورۃ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جبکہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔ “ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۲۱۸)