صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 30 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 30

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۰ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ حُمَيْدٌ أَحَدُهُمْ أَوِ کان گواہی دیں اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ اثْنَانِ مِنْهُمْ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى مَنْصُورٍ تمہارے جسم۔ اور سفیان بن عیینہ) ہم سے یہ وَتَرَكَ ذَلِكَ مِرَارًا غَيْرَ وَاحِدَةٍ۔ حدیث بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم سے منصور (بن معمر ) یا (عبد الله ) ابن ابی نجیح نے یا حمید (بن قیس) میں سے ایک نے یا ان میں سے دونے بیان کیا۔ پھر بعد میں وہ منصور کا ہی نام لیتے رہے اور باقیوں کا نام لینا چھوڑ دیا اور اس أطرافه: ٤٨١٦، ٧٥٢١۔ طرح یہ حدیث انہوں نے کئی دفعہ بیان کی۔ قَوْلُهُ فَإِنْ يَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَهُم ( حم السجدة : ٢٥) الْآيَةَ } اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اگر وہ صبر بھی کریں تو پھر بھی آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہے حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ حَدَّثَنَا يَحْيَى عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي قطان نے ہمیں بتایا کہ ہم سے سفیان ثوری نے مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتایا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ۔۔۔ بِنَحْوِهِ۔ أطرافه: ٤٨١٦، ٧٥٢١- انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابو معمر سے ، ابو معمر نے حضرت عبداللہ بن مسعود) سے اس طرح کی حدیث بیان کی۔ تشريح : وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمُ : امام بخاری نے تین ابواب میں ایک ہی روایت تین مختلف سندوں سے نقل کی ہے، اس میں یہ ذکر ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ انسان کی باتوں کو سنتا اور اس کے اعمال کو دیکھتا ہے ؟ اس کا جواب قرآن کریم کی اس آ اس آیت وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ ( حم السجدة : ۲۳) میں دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام انظام تکوینی وضع کیا ہے کہ انسان کا ہر قول و فعل ساتھ ساتھ محفوظ ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قانون قدرت کے ریکارڈ کے اس سسٹم کو دیکھ کر انسان بوقت حساب حیران ہو کر کہے گا: يُوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَبِ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔