صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 30
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم السجدة۔ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ حُمَيْدٌ أَحَدُهُمْ أَوِ كان گواہی دیں اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ اثْنَانِ مِنْهُمْ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى مَنْصُورٍ تمہارے جسم۔اور سفیان بن عیینہ) ہم سے یہ وَتَرَكَ ذَلِكَ مِرَارًا غَيْرَ وَاحِدَةٍ۔حدیث بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم سے منصور ( بن معتمر) یا (عبد اللہ ابن ابی بھیج نے یا أطرافه: ٤٨١٦، ٧٥٢١۔حمید (بن قیس) میں سے ایک نے یا ان میں سے دو نے بیان کیا۔پھر بعد میں وہ منصور کا ہی نام لیتے رہے اور باقیوں کا نام لینا چھوڑ دیا اور اس طرح یہ حدیث انہوں نے کئی دفعہ بیان کی۔{ قَوْلُهُ فَإِن يَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُم (حم السجدة : ٢٥) الآيَةَ } اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اگر وہ صبر بھی کریں تو پھر بھی آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہے حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ حَدَّثَنَا يَحْيَى عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ يحجي (بن سعید حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي قطان نے ہمیں بتایا کہ ہم سے سفیان ثوری نے مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ بیان کیا۔انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتایا، انہوں نے مجاہد سے ، مجاہد نے ابو معمر سے ، ابو معمر عَنْ عَبْدِ اللَّهِ۔۔۔بِنَحْوِهِ۔أطرافه: ٤٨١٦، ٧٥٢١- نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے اس طرح کی حدیث بیان کی۔تشريح۔وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ : امام بخاری نے تین ابواب میں ایک ہی۔روایت تین مختلف سندوں سے نقل کی ہے، اس میں یہ ذکر ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ انسان کی باتوں کو سنتا اور اس کے اعمال کو دیکھتا ہے ؟ اس کا جواب قرآنِ کریم کی اس آیت وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سمُعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ ( حم السجدۃ : ٢٣) میں دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام تکوینی وضع کیا ہے کہ انسان کا ہر قول و فعل ساتھ ساتھ محفوظ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قانون قدرت کے ریکارڈ کے اس سسٹم کو دیکھ کر انسان بوقت حساب حیران ہو کر کہے گا: يُويْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَبِ 1 یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔