صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 506
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۶ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق میں اپنی خطا معاف کرانے آیا ہوں کہ میں نے کیوں آپ کی بے ادبی کی۔میں حیران تھا کہ اس نے میری کیا بے ادبی کی۔حالانکہ اس وقت بھی اس نے میری کوئی بے ادبی نہ کی تھی۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۵۶۸،۵۶۷) آپ رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: ” غاسق : اندھیر کرنے والا، ہر ایک چیز جو تاریکی اور ظلمت پیدا کرے۔غاسق رات کو کہتے ہیں اور غسق تاریکی کو کہتے ہیں کیونکہ رات تاریکی پیدا کرتی ہے۔اس واسطے وہ غاسق ہے۔اور غسق برد کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ رات بہ نسبت دن کے ٹھنڈی ہوتی ہے۔غسق ثریا کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ اس کا گرنا عموما وباء اور بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔اور غاسق سورج کو بھی کہتے ہیں جبکہ غروب ہو جاوے اور چاند کو بھی کہتے ہیں جبکہ اس کو گہن لگے۔غاسق سانپ کو بھی کہتے ہیں جبکہ وہ کاٹ کھائے اور ہر ایک ناگہاں آنے والی چیز جو ضرر پہنچائے یا بھیک مانگنے والا جبکہ وہ تنگ کرے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں غرض ہر ایک چیز جو انسان کو ظلمت روحانی یا جسمانی میں ڈالے اس کو غاسق کہتے ہیں۔جب رات بہت تاریک ہو تو عرب کے محاورہ میں کہتے ہیں غَسَقَ اللَّيْلُ۔اور جب آنکھیں آنسوؤں سے بھر جائیں تو کہتے ہیں غَسَقَتِ الْعَيْنُ اور جب زخم پیپ سے بھر جائے تو کہتے ہیں غَسَقَتِ الْجَرَاحَةُ۔وقب کے معنے ہیں چُھپ گیا۔وَقَب کے اصلی معنے ہیں کسی شئے میں داخل ہونا، ایسا کہ وہ نظر سے غائب ہو جاوے۔حدیث شریف میں آیا ہے رَوَى أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِمَة أَنَّهُ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا وَأَشَارَ إِلَى الْقَمَرِ وَقَالَ اسْتَعِيْنِي بِالله مِن شَيْرِ هَذَا فَإِنَّهُ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ۔ابوسلمہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کا ہاتھ پکڑا اور چاند کی طرف جبکہ وہ کسوف میں تھا اشارہ کر کے فرمایا کہ اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پناہ مانگ کہ یہ اندھیرا کرنے والا ہے جبکہ چھپ جائے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۵۷۵ تا۵۷۶)