صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 505 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 505

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۵ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق لینے سے کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں لاہور گیا۔میرے آشنا نے مجھے ایک جگہ لے جانے کے واسطے کہا اور میں اس کے ساتھ ہو لیا مگر نہیں معلوم کہ کہاں لئے جاتا ہے اور کیا کام ہے۔اس طرح بے علمی میں وہ مجھے ایک مسجد میں لے گیا۔جہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔قرائن سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ کسی مباحثہ کی تیاری ہے۔میری چونکہ نماز عشاء باقی تھی۔میں نے اُن سے کہا کہ مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ مجھے ایک موقعہ مل گیا کہ میں دعا کر لوں۔خدا کی قدرت اس وقت میں نے اس سورۃ کو بطور دعا پڑھا اور باریک در بار یک رنگ میں اس دُعا کو وسیع کر دیا اور دعا کی کہ اے خدائے قادر و توانا تیر انام فَالِقُ الْإِصْبَاحَ فَالِقُ الحب والنوى ہے۔میں ظلمات میں ہوں۔میری تمام ظلمتیں دور کر دے اور مجھے ایک نور عطا کر کہ جس سے میں ہر ایک ظلمت کے شر سے تیری پناہ میں آجاؤں۔تو مجھے ہر امر میں ایک حجت نیرہ اور برہان قاطع اور فرقان عطا فرما۔میں اگر اند ھیروں میں ہوں اور کوئی علم مجھ میں نہیں ہے تو تو ان ظلمات کو مجھ سے دور کر کے وہ علوم مجھے عطا فرما اور اگر میں ایک دانے یا گٹھلی کی طرح کمزور اور رڈی چیز ہوں تو تو مجھے اپنے قبضہ قدرت اور ربوبیت میں لے کر اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا۔غرض اس وقت میں نے اس رنگ میں دعا کی اور اس کو وسیع کیا جتنا کہ کر سکتا تھا۔بعدہ میں نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کی طرف مخاطب ہوا۔خدا کی قدرت کہ اس وقت جو مولوی میرے ساتھ مباحثہ کرنے کے واسطے تیار کیا گیا تھا۔وہ بخاری لیکر میرے سامنے بڑے ادب سے شاگردوں کی طرح بیٹھ گیا اور کہا یہ مجھے آپ پڑھا دیں۔وہ صلح حدیبیہ کی ایک حدیث تھی۔حضرت مرزا صاحب کے متعلق اس میں کوئی ذکر نہ تھا۔لوگ حیران تھے اور میں خدا تعالیٰ کے تصرف اور کاملہ قدرت پر خدا کے جلال کا خیال کرتا تھا۔آخر لوگوں نے اس سے کہا کہ یہاں تو مباحثہ کے واسطے ہم لائے تھے۔تم ان سے پڑھنے بیٹھ گئے ہو۔اگر پڑھنا ہی مقصود ہے تو ہم مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کر دیتے۔ان کے ساتھ جموں چلے جاؤ اور روٹی بھی مل جایا کریگی۔وہی شخص ایک بار پھر مجھے ملا اور کہا کہ