صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 504
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۴ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق نازل ہوا جس نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگو۔وہ اس درد کو ڈور کر دیگا۔حضرت یوسف نے اس فرشتے کو کہا کہ تُو دُعا کر۔میں آمین کہوں گا چنانچہ اس فرشتے نے دعا کی اور حضرت یوسف نے آمین کہی۔تب خدا تعالیٰ نے اس دُعا کو قبول فرمایا اور وہ درد تھم گیا اور ان کو آرام ہو گیا۔تب حضرت یوسف نے دعا کی کہ اس وقت جس قدر بیمار ہیں اور تکلیف میں ہیں ان سب کو آرام دیا جائے فرشتے نے اس دُعا پر بھی آمین کہی اور کہتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ صبح کے وقت ہر بیمار کو تھوڑا بہت افاقہ ہو جاتا ہے۔وہ دعا حضرت یوسف کی مفصلہ ذیل الفاظ میں تھی: يَا عدتي في شتى وَ يَا مُونِسَى فِي وَحْشَتِى وَ رَاحِمَ غُرْبَتِي وَ كَاشِفِ كُرْيَتِى وَيَا مُجِيبُ دَعْوَتِي وَيَا إِلهِي وَالة آبائي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ ارْحَمْ صِغَرَسِنِّى وَ ضُعْفَ رُكْنِي وَقِلَّةَ حِيْلَتِي يَا حَلِي يَا قَيُّومُ يَاذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ - اے میرے ہتھیار میرے مصائب میں اور میرے مونس میری وحشت کے وقت اور اے رحم کرنے والے میری غربت پر اور اے میری گھبراہٹ کے دور کر نیوالے اور اے میری دُعا کے قبول کرنے والے اور اے میرے معبود اور میرے باپ دادوں کے معبود ابراہیم و اسحق اور یعقوب کے معبود میری چھوٹی عمر پر رحم کر اور میرے ضعف رکن پر رحم فرما اور میرے حیلہ کے کم ہونے پر رحم کر، اے کی اسے قیوم، اے صاحب جلال اور اکرام۔“ حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۵۷۱ تا ۵۷۵) نیز فرمایا: " غرض اس چھوٹی سی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ فلق کے نیچے بار یک در بار یک حکمتیں رکھی ہیں اور انسان کو ترقی کی راہ بتائی ہے کہ دیکھو جب کوئی چیز میرے قبضہ قدرت اور ربوبیت کے ماتحت آجاتی ہے تو پھر وہ کس طرح ادنی اور ارذل حالت سے اعلیٰ اور اعلیٰ بن جاتی ہے۔پس انسان کو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو مد نظر رکھ کر اور اس کی کامل قدرت کا یقین کر کے اور اس کے اسماء اور صفات کا ملہ کو پیش نظر رکھ کر اس سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے بڑھاتا اور ترقی دیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ ایک نہایت مشکل امر کے واسطے اس دعا سے کام