صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 503
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۳ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق والا ہے۔جب چاہے اور جس کے لئے اس میں صلاحیت دیکھے اور بعض کا قول ہے کہ اس جگہ فلق سے مراد تمام مخلوقات ہے کیونکہ وہ سب کے سب مذکر کے اصلاب سے اور مؤنث کے ارحام سے نکلے ہیں۔ایسا ہی دانہ پھٹتا ہے تو اس سے سبزی نکلتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ فلق وہ ہے جو کسی شے سے پھٹ کر جدا ہوتی ہے اور یہ عام ہے تمام مخلوقات پر۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے عدم کی ظلمت کو پھاڑ کر اس کو وجود کی روشنی میں لاتا ہے۔اور فلق کے ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو ذات صفحہ عالم سے ان ظلمات اور تاریکیوں کو محو کرنے اور مٹا دینے پر تام قدرت رکھتی ہے اسے یہ بھی طاقت اور قدرت ہے کہ جو شخص عاجزی کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے پناہ مجو ہوتا ہے وہ اس کے تمام خوف اور دہشت کو دُور کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں صبح کا طلوع ہونا آغاز فرحت و سرور کی مثال ہے کہ جس طرح آدمی تمام رات طلوع فجر کا انتظار کرتا ہے۔اسی طرح خائف و عائذ ، نجاح و فلاح کے طلوع صبح کا انتظار کرتے ہیں۔بہر تقدیر خدا تعالیٰ کے حضور پناہ مانگنی چاہیئے۔تمام مخلوق کی برائی سے۔موذی آدمی، جن درندے ، وحشی جانور ، سانپ بچھو وغیرہ سے۔۔۔کعب بن احبار فرماتے ہیں کہ دوزخ میں ایک لق و دق جنگل ہے اس کا نام فلق ہے۔جب وہ کھولا جاتا ہے تو سارے دوزخی اس کی شدت گرمی کی وجہ سے چیچنے لگتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ دوزخ کی تہہ میں ایک کنواں ہے جسے فلق کہتے ہیں۔اس پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔جب وہ اٹھا دیا جاتا ہے تو اس میں سے ایک ایسی سخت آگ نکلتی ہے جس سے خود جہنم پینتی ہے۔علاوہ اس کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں۔مگر سب سے صحیح تر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فلق صبح کو کہتے ہیں یا دانہ یا گٹھلی کے پھوٹنے اور اُگنے کا نام ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یوسف علیہ السلام جب کنوئیں میں ڈالے گئے تھے تو آپ کے گھٹنے میں سخت درد ہوا ( شاید گرنے کے سبب چوٹ لگی ہو ) ایسا سخت درد ہوا کہ تمام رات جاگتے ہوئے گزری۔یہاں تک کہ طلوع صبح کا وقت ہو گیا۔تب ایک فرشتہ