صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 502
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰۲ ۶۵ - کتاب التفسیر / قل اعوذ برب الفلق دوست کون ہیں۔کونسی چیز مفید ہے اور کون سی چیز ضر ر دینے والی ہے۔لیکن جب صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے تو انسان پہچان لیتا ہے کہ یہ میرا دوست ہے اور یہ دشمن ہے۔اور اس چیز سے مجھے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور اس سے نقصان کا احتمال ہو سکتا ہے گویا اس میں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار اگر چہ ہم اپنی نادانی اور بے علمی اور گناہ گاری کے سبب ایک ظلمت اور تاریکی در تتاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔لیکن تیری وہ ذات ہے کہ تمام تاریکیوں کو دور کر دیتی ہے اور روشنی اور نور پیدا کر کے دُکھ دینے والی چیزوں سے انسان کو بچانے والا تو ہی ہے۔پس تو ہی ہم پر رحم فرما۔کیونکہ تیرے حضور میں اپنی تمام تاریکیوں سے پناہ گزین ہوتے ہیں۔۔۔فلق کسی شے کے پھٹنے کو یا بعض سے بعض کو جدا کرنے کو کہتے ہیں۔جیسا کہ عربی میں کہتے ہیں فَلَقْتُهُ فَانفَلق میں نے اُسے پھاڑا پس وہ پھٹ گیا۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَالِقُ الْإِصْباح صبح کا پھاڑنے والا، ظاہر کرنے والا ، نمودار کرنے والا اور ایسا ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوى کے دانے اور گٹھلی کا پھاڑنے والا اور اُن سے درخت بنانے والا اور ایسا ہی قرآن شریف میں آیا ہے: فَاوْحَيْنَا إلى مُوسَى أَنِ اضْرِبُ بَعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلق سے پس ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنی جماعت کو دریا میں لے چل۔پس وہ دریا پھٹ گیا۔اور جماعت کے واسطے راستہ ہو گیا اور لشکر صاف نکل گیا اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں ساتھ پروردگار فلق کے۔اس جگہ فلق حرف ”ل“ کی زبر کے ساتھ ہے اور اس کے معنی ہیں صبح کی روشنی اور اس کا چمکنا اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اے مخاطب حفاظت طلب کر اور پناہ مانگ، اس رب کے حضور میں جو صبح کا رب اور خالق اور مدبر ہے۔اور اس کے چڑھانے (الأنعام: ۹۷) (الأنعام: ۹۶) (الشعراء: ۶۴)